کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: مسلمان کی عزت و آبرو پر دست درازی کرنے اور اسے پامال کرنے سے روکنے اور اس کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُونَ بَابًا ، أَدْنَاهَا مِثْلُ إِتْيَانِ الرَّجُلِ أُمَّهُ ، وَأَرْبَى الرِّبَا اسْتِطَالَةُ الرَّجُلِ فِي عِرْضِ صَاحِبِهِ " .
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سود کے بہتر (72) ابواب یا درجات ہیں، ان میں سے ادنیٰ درجے کا گناہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے، اور سب سے بڑا سود کسی شخص کا اپنے (مسلمان) بھائی کی عزت و آبرو پر ناحق زبان درازی کرنا اور اس کی توہین کرنا ہے“۔
تخریج و تحکیم: اسے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی المصنف (22441) میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے دیگر شواہد کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [صحیح الجامع: 3537]۔
تخریج و تحکیم: اسے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی المصنف (22441) میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے دیگر شواہد کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [صحیح الجامع: 3537]۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اغْتِيبَ عِنْدَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ ، فَنَصَرَهُ ، نَصَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ تَرَكَ نُصْرَتَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا ، خَذَلَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " .
2727 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
قُلْتُ : أَبُو إِسْمَاعِيلَ هُوَ أَبَانُ الْمَذْكُورُ قَبْلَهُ .
2727 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
قُلْتُ : أَبُو إِسْمَاعِيلَ هُوَ أَبَانُ الْمَذْكُورُ قَبْلَهُ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی موجودگی میں اس کے کسی مسلمان بھائی کی غیبت (پیٹھ پیچھے برائی) کی جائے اور وہ اس کی نصرت و حمایت کرے، تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد فرمائے گا، اور جو شخص اپنے بھائی کی مدد و مدافعت کرنا چھوڑ دے حالانکہ وہ اس کی قدرت و استطاعت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں بے یار و مددگار چھوڑ کر رسوا کر دے گا۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے؛ میں کہتا ہوں کہ اس دوسری سند میں مذکور راوی ابو اسماعیل دراصل وہی ابان ہیں جن کا تذکرہ پہلی سند میں ہوا ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے؛ میں کہتا ہوں کہ اس دوسری سند میں مذکور راوی ابو اسماعیل دراصل وہی ابان ہیں جن کا تذکرہ پہلی سند میں ہوا ہے۔