المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ الاستطالة فِي عرض المسلم باب: مسلمان کی عزت و آبرو پر دست درازی کرنے اور اسے پامال کرنے سے روکنے اور اس کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اغْتِيبَ عِنْدَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ ، فَنَصَرَهُ ، نَصَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ تَرَكَ نُصْرَتَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا ، خَذَلَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " .
2727 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
قُلْتُ : أَبُو إِسْمَاعِيلَ هُوَ أَبَانُ الْمَذْكُورُ قَبْلَهُ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی موجودگی میں اس کے کسی مسلمان بھائی کی غیبت (پیٹھ پیچھے برائی) کی جائے اور وہ اس کی نصرت و حمایت کرے، تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد فرمائے گا، اور جو شخص اپنے بھائی کی مدد و مدافعت کرنا چھوڑ دے حالانکہ وہ اس کی قدرت و استطاعت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں بے یار و مددگار چھوڑ کر رسوا کر دے گا۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے؛ میں کہتا ہوں کہ اس دوسری سند میں مذکور راوی ابو اسماعیل دراصل وہی ابان ہیں جن کا تذکرہ پہلی سند میں ہوا ہے۔