المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ السعاية بالمسلم والترهيب مِنْ تَرْكِ نصرته باب: مسلمان کے خلاف مخبری کی ممانعت اور اس کی مدد چھوڑنے سے ڈرانے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ : حَدَّثَنَا وَقَّاصُ بْنُ رَبِيعَةَ ، أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً ، فَإِنَّ اللهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ ، وَمَنِ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَكْسُوهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی مسلمان کے بدلے (یعنی اس کی غیبت یا اسے نقصان پہنچا کر) ایک لقمہ بھی کھایا، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے کھولتے ہوئے گرم پانی سے ویسا ہی لقمہ کھلائے گا، اور جس نے کسی مسلمان کے بدلے (اس کی آبرو ریزی کر کے) کوئی کپڑا پہنا، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کا ویسا ہی لباس پہنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی عیب جوئی کر کے شہرت اور دکھاوے کے لیے کسی مقام پر کھڑا ہوا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے (خلقِ خدا کے سامنے رسوائی کے) ایسے ہی مقامِ شہرت پر کھڑا کرے گا۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے سنن (رقم: 4881) اور امام احمد نے مسند (رقم: 18020) میں روایت کیا ہے، اس کی سند حسن درجے کی ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔