المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ الاستطالة فِي عرض المسلم باب: مسلمان کی عزت و آبرو پر دست درازی کرنے اور اسے پامال کرنے سے روکنے اور اس کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2726
قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُونَ بَابًا ، أَدْنَاهَا مِثْلُ إِتْيَانِ الرَّجُلِ أُمَّهُ ، وَأَرْبَى الرِّبَا اسْتِطَالَةُ الرَّجُلِ فِي عِرْضِ صَاحِبِهِ " .ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سود کے بہتر (72) ابواب یا درجات ہیں، ان میں سے ادنیٰ درجے کا گناہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے، اور سب سے بڑا سود کسی شخص کا اپنے (مسلمان) بھائی کی عزت و آبرو پر ناحق زبان درازی کرنا اور اس کی توہین کرنا ہے“۔
تخریج و تحکیم: اسے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی المصنف (22441) میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے دیگر شواہد کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [صحیح الجامع: 3537]۔