المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ زِيَارَةِ الإخوان باب: دینی بھائیوں کی زیارت اور ان سے ملاقات کی فضیلت و بزرگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2620
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، كَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَوْنِهِ مَا كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، وَمَنْ فَكَّ حَلْقَةً فَكَّ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے کسی (مسلمان) بھائی کی مدد و تعاون میں مصروف رہتا ہے، اللہ عزوجل اس وقت تک اس کی مدد و نصرت فرماتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، اور جس نے (کسی کی مصیبت یا تنگی کی) کوئی کڑی کھولی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر سے (شدائد و تکالیف کی) کڑیاں کھول کر اسے خلاصی عطا فرمائے گا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم حدیث کا ابتدائی حصہ صحیح احادیث کے شواہد کی بنا پر مقبول و معروف ہے۔