المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ الانتماء إِلَى غَيْرِ الموالي والإدعاء إِلَى غَيْرِ الآباء وعن سَبِّ الوالدين باب: غیر موالی یا غیر باپ کی طرف نسبت کرنے اور والدین کو گالی دینے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2552
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ ، وَمَنْ سَبَّ وَالِدَهُ أَوْ وَالِدَيْهِ ، فَكَذَلِكَ " .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت منسوب کی، یا اپنے حقیقی سرپرستوں اور محسنوں سے بے رغبتی کرتے ہوئے کسی اور کی طرف اپنی نسبت منسوب کی، تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، اور جس نے اپنے والد یا اپنے والدین کو گالی دی، تو اس کے لیے بھی یہی حکم ہے۔“
مسند أبي يعلى: 2552، امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متن کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے: صحیح الجامع الصغیر: 6140۔