❮
❯
حدیث نمبر: 2553
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَيَانِ : حَبَشِيٌّ وَنَبَطِيٌّ ، فَاسْتَبَّا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : يَا حَبَشِيُّ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يَا نَبَطِيُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا هَذَا ، إِنَّمَا أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دو آزاد کردہ غلام تھے، جن میں سے ایک حبشی نژاد اور دوسرا نبطی الاصل تھا، ان دونوں نے (کسی معاملے پر) باہم ایک دوسرے کو برا بھلا کہا اور گالی گلوچ کی جبکہ نبی کریم ﷺ (ان کی یہ تکرار) سماعت فرما رہے تھے، پس ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو (بطورِ عار) کہا: ”اے حبشی!“ اور دوسرے نے (جواباً) کہا: ”اے نبطی!“ تو نبی کریم ﷺ نے (انہیں اس نسلی عصبیت اور جاہلانہ امتیاز سے روکتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم ایسی باتیں ہرگز مت کہو، حقیقت تو یہ ہے کہ تم دونوں محمد ﷺ کے اصحاب میں سے دو مرد ہو۔“
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند (12562) اور امام ابویعلیٰ نے (3662) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد راوی کے حافظہ پر کلام ہونے کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، تاہم حدیث کا معنی و مفہوم نسلی تفاخر کی ممانعت سے متعلق دیگر صحیح نصوص کے عین مطابق ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2553
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 546، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13091، 13092، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5393»