قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَلِيُّ كُلِ الزَّيْتَ وَادَّهِنْ بِالزَّيْتِ ، فَإِنَّهُ مَنِ ادَّهَنَ بِالزَّيْتِ لَمْ يَقْرَبْهُ الشَّيْطَانُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”اے علی! تم زیتون کا تیل کھایا کرو اور اسے (بدن پر) لگایا کرو، کیونکہ جو شخص زیتون کے تیل کی مالش کرتا ہے، شیطان چالیس راتوں تک اس کے قریب نہیں آتا۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں حماد بن عمرو اور السری بن خالد نامی راوی موجود ہیں جن کی وجہ سے ائمہ حدیث کے نزدیک یہ روایت سخت ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) قرار دی گئی ہے۔
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں حماد بن عمرو اور السری بن خالد نامی راوی موجود ہیں جن کی وجہ سے ائمہ حدیث کے نزدیک یہ روایت سخت ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) قرار دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا أَبُو حَزْرَةَ يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ ، وَذُكِرَ عِنْدَهَا الزَّيْتَ فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ أَنْ يُؤْكَلَ وَيُدَّهَنَ بِهِ ، وَيَقُولُ : إِنَّهَا شَجَرَةٌ مُبَارَكَةٌ .
ترجمہ
سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا، جب ان کے پاس زیتون کے تیل کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ (زیتون کا تیل) کھانے اور اسے (بدن پر) لگانے یا مالش کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: ”بے شک یہ ایک بابرکت درخت ﴿شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ﴾ [سورة النور: 35] سے (حاصل شدہ) ہے۔“ “
اس حدیث کی سند میں محمد بن عمر الواقدی نامی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف اور متروک ہے، تاہم زیتون کے استعمال اور اس کی فضیلت سے متعلق دیگر صحیح و حسن احادیث (مثلاً سنن ترمذی: 1851) موجود ہیں جو اس کے مفہوم کو تقویت دیتی ہیں۔
اس حدیث کی سند میں محمد بن عمر الواقدی نامی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف اور متروک ہے، تاہم زیتون کے استعمال اور اس کی فضیلت سے متعلق دیگر صحیح و حسن احادیث (مثلاً سنن ترمذی: 1851) موجود ہیں جو اس کے مفہوم کو تقویت دیتی ہیں۔