المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الزيت باب: زیتون کے تیل کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا أَبُو حَزْرَةَ يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ ، وَذُكِرَ عِنْدَهَا الزَّيْتَ فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ أَنْ يُؤْكَلَ وَيُدَّهَنَ بِهِ ، وَيَقُولُ : إِنَّهَا شَجَرَةٌ مُبَارَكَةٌ .سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا، جب ان کے پاس زیتون کے تیل کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ (زیتون کا تیل) کھانے اور اسے (بدن پر) لگانے یا مالش کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: ”بے شک یہ ایک بابرکت درخت ﴿شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ﴾ [سورة النور: 35] سے (حاصل شدہ) ہے۔“ “
اس حدیث کی سند میں محمد بن عمر الواقدی نامی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف اور متروک ہے، تاہم زیتون کے استعمال اور اس کی فضیلت سے متعلق دیگر صحیح و حسن احادیث (مثلاً سنن ترمذی: 1851) موجود ہیں جو اس کے مفہوم کو تقویت دیتی ہیں۔