❮
❯
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا أَبُو حَزْرَةَ يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ ، وَذُكِرَ عِنْدَهَا الزَّيْتَ فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ أَنْ يُؤْكَلَ وَيُدَّهَنَ بِهِ ، وَيَقُولُ : إِنَّهَا شَجَرَةٌ مُبَارَكَةٌ .
ترجمہ

سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا، جب ان کے پاس زیتون کے تیل کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ (زیتون کا تیل) کھانے اور اسے (بدن پر) لگانے یا مالش کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: ”بے شک یہ ایک بابرکت درخت ﴿شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ﴾ [سورة النور: 35] سے (حاصل شدہ) ہے۔“ “
اس حدیث کی سند میں محمد بن عمر الواقدی نامی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف اور متروک ہے، تاہم زیتون کے استعمال اور اس کی فضیلت سے متعلق دیگر صحیح و حسن احادیث (مثلاً سنن ترمذی: 1851) موجود ہیں جو اس کے مفہوم کو تقویت دیتی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2417
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»