قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجُبْنَةٍ ، فَقِيلَ : إِنَّ هَذَا طَعَامٌ تَصْنَعُهُ الْمَجُوسُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْكُرُوا اسْمَ اللهِ [عَلَيْهِ] وَكُلُوا .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِلَفْظٍ آخَرَ .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِلَفْظٍ آخَرَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پنیر کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا، تو عرض کیا گیا کہ یہ وہ کھانا ہے جسے مجوسی (آتش پرست) تیار کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اس پر اللہ کا نام لو اور اسے کھا لو۔“
میں کہتا ہوں کہ اسے امام ابو داؤد نے عمرو بن منصور کے طریق سے اسی سند کے ساتھ لیکن دیگر الفاظ میں نقل کیا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اسے امام ابو داؤد نے عمرو بن منصور کے طریق سے اسی سند کے ساتھ لیکن دیگر الفاظ میں نقل کیا ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِأَكْلِ الْجُبْنِ " .
ترجمہ
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”وہ پنیر کھانے میں کسی قسم کا کوئی حرج، مضائقہ یا قباحت محسوس نہیں کرتے تھے یعنی ان کے نزدیک اس کا کھانا شرعی طور پر بالکل جائز و مباح تھا“۔
امام مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ نے اس اثر کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جس کی سند میں موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے اس جواز کو نقل کر رہے ہیں، اور اس کے تمام رجال معتبر اور ثقہ ہیں۔
امام مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ نے اس اثر کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جس کی سند میں موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے اس جواز کو نقل کر رہے ہیں، اور اس کے تمام رجال معتبر اور ثقہ ہیں۔
وَحَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي عِيَاضٍ ، أَنَّهُمَا قَالَا : لَا بَأْسَ بِجُبْنِ الْمَجُوسِ " .
ترجمہ
عطاء اور ابو عیاض رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”مجوسیوں کے تیار کردہ پنیر کے کھانے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ہے۔“
یہ اثر ان جلیل القدر تابعین کے فقہی مسلک کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مجوسیوں کے بنائے ہوئے پنیر کے استعمال کو جائز سمجھتے تھے۔
یہ اثر ان جلیل القدر تابعین کے فقہی مسلک کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مجوسیوں کے بنائے ہوئے پنیر کے استعمال کو جائز سمجھتے تھے۔