المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الضيافة باب: مہمان نوازی کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَافَرَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْمَلُوا ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنَ الْأَعْرَابِ فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى فَأَبَوْا ، فَسَأَلُوهُمُ الشِّرَى فَأَبَوْا فَضَبَطُوهُمْ ، فَأَصَابُوا مِنْ طَعَامِهِمْ ، فَذَهَبَتِ الْأَعْرَابُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَشْكُونَهُمْ ، فَأَشْفَقَتِ الْأَنْصَارُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَمْنَعُونَ ابْنَ السَّبِيلِ مَا يَخْلُقُ اللهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي ضُرُوعِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ ؟ لَابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ الْبَانِي عَلَيْهِ " .عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ کرام سفر پر نکلے، تو ان کا توشہ ختم ہو گیا، چنانچہ ان کا گزر اعراب (دیہاتیوں) کے ایک قبیلے پر ہوا تو انہوں نے ان سے مہمانی (اور کھانے) کی درخواست کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے خریدنے کی درخواست کی تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، جس پر صحابہ نے انہیں قابو میں کر کے ان کے طعام میں سے کچھ (ضرورت کے مطابق) حاصل کر لیا۔ اس پر وہ اعراب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی شکایت لے کر پہنچے، تو انصار (سیدنا عمر کے غضب سے) ڈر گئے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ان دیہاتیوں سے) فرمایا: ”تم مسافر کو اس چیز سے روکتے ہو جو اللہ تعالیٰ رات دن اونٹوں اور بکریوں کے تھنوں میں پیدا فرماتا ہے؟ مسافر کا پانی پر (بھی) اس شخص سے زیادہ حق ہے جس نے اس پر عمارت (یا قبضہ) بنا رکھی ہو!“