کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: کسی عذر کی بنا پر ریشم پہننے کے مباح ہونے اور بچوں کے لیے اس کی کراہت (ناپسندیدگی) کی طرف اشارے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : " دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَمَعَهُ مُحَمَّدٌ ابْنُهُ ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ مِنْ حَرِيرٍ ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَخَذَ بِجَيْبِهِ فَشَقَّهُ . فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : غَفَرَ اللهُ لَكَ ، لَقَدْ أَفْزَعْتَ الصَّبِيَّ فَأَطَرْتَ قَلْبَهُ ، قَالَ : تَكْسُوهُمُ الْحَرِيرَ ؟ قَالَ : فَإِنِّي أَلْبَسُ الْحَرِيرَ ، فَإِنَّهُمْ مِثْلُكَ " .
ترجمہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے محمد کے ساتھ داخل ہوئے، اور اس (محمد) نے ریشم کی قمیص پہنی ہوئی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اس کی گریبان پکڑی اور اسے پھاڑ ڈالا۔ اس پر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «غَفَرَ اللهُ لَكَ» ”اللہ تمہیں معاف فرمائے، تم نے تو بچے کو ڈرا دیا اور اس کا دل دہلا دیا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں ریشم پہناتے ہو؟“ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو خود ریشم پہنتا ہوں، اور یہ (بچے) بھی تمہاری ہی طرح ہیں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2243
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 25147، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6683»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ عَوْفٍ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُ حَرِيرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ذُكِرَ لِي أَنَّ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْبَسَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
ترجمہ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے ریشمی قمیص زیب تن کر رکھی تھی۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے بتایا گیا ہے کہ جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے (جواباً) کہا: ”میں تو امید کرتا ہوں کہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں پہنوں گا۔“
اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2244
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 159»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثْرَةَ الْقَمْلِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَلْبَسَ قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ ؟ فَأَذِنَ لَهُ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . أَتَاهُ بِابْنِهِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ مِنْ حَرِيرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا هَذَا ؟ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فِي جَيْبِ الْقَمِيصِ فَشَقَّهُ إِلَى أَسْفَلِهِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ أَحَلَّهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنَّمَا أَحَلَّهُ لَكَ ; لِأَنَّكَ شَكَوْتَ الْقَمْلَ ، فَأَمَّا غَيْرُكَ فَلَا .
ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرتِ جوؤں کی شکایت کی، اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ، کیا آپ مجھے ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت مرحمت فرمائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو ایک روز عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے ابو سلمہ کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اور انہوں نے ریشمی قمیص پہنی ہوئی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھ کر فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ پھر اپنا ہاتھ قمیص کے گریبان میں ڈالا اور اسے نیچے تک پھاڑ دیا۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اسے حلال قرار دیا تھا؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”بیشک آپ ﷺ نے اسے آپ کے لیے اس لیے حلال فرمایا تھا کیونکہ آپ نے جوؤں کی شکایت کی تھی، جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے تو ان کے لیے یہ حلال نہیں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2245
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 6161، وأخرجه مسند البزار برقم: 1049، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 19941»