المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ إباحة لبس الحرير لعذر والإشارة إِلَى كراهيته للصبيان باب: کسی عذر کی بنا پر ریشم پہننے کے مباح ہونے اور بچوں کے لیے اس کی کراہت (ناپسندیدگی) کی طرف اشارے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2243
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : " دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَمَعَهُ مُحَمَّدٌ ابْنُهُ ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ مِنْ حَرِيرٍ ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَخَذَ بِجَيْبِهِ فَشَقَّهُ . فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : غَفَرَ اللهُ لَكَ ، لَقَدْ أَفْزَعْتَ الصَّبِيَّ فَأَطَرْتَ قَلْبَهُ ، قَالَ : تَكْسُوهُمُ الْحَرِيرَ ؟ قَالَ : فَإِنِّي أَلْبَسُ الْحَرِيرَ ، فَإِنَّهُمْ مِثْلُكَ " .ترجمہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے محمد کے ساتھ داخل ہوئے، اور اس (محمد) نے ریشم کی قمیص پہنی ہوئی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اس کی گریبان پکڑی اور اسے پھاڑ ڈالا۔ اس پر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «غَفَرَ اللهُ لَكَ» ”اللہ تمہیں معاف فرمائے، تم نے تو بچے کو ڈرا دیا اور اس کا دل دہلا دیا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں ریشم پہناتے ہو؟“ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو خود ریشم پہنتا ہوں، اور یہ (بچے) بھی تمہاری ہی طرح ہیں۔“