المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ إباحة لبس الحرير لعذر والإشارة إِلَى كراهيته للصبيان باب: کسی عذر کی بنا پر ریشم پہننے کے مباح ہونے اور بچوں کے لیے اس کی کراہت (ناپسندیدگی) کی طرف اشارے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2244
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ عَوْفٍ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُ حَرِيرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ذُكِرَ لِي أَنَّ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْبَسَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .ترجمہ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے ریشمی قمیص زیب تن کر رکھی تھی۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے بتایا گیا ہے کہ جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے (جواباً) کہا: ”میں تو امید کرتا ہوں کہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں پہنوں گا۔“
اس کی سند صحیح ہے۔