المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ إباحة لبس الحرير لعذر والإشارة إِلَى كراهيته للصبيان باب: کسی عذر کی بنا پر ریشم پہننے کے مباح ہونے اور بچوں کے لیے اس کی کراہت (ناپسندیدگی) کی طرف اشارے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثْرَةَ الْقَمْلِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَلْبَسَ قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ ؟ فَأَذِنَ لَهُ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . أَتَاهُ بِابْنِهِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ مِنْ حَرِيرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا هَذَا ؟ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فِي جَيْبِ الْقَمِيصِ فَشَقَّهُ إِلَى أَسْفَلِهِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ أَحَلَّهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنَّمَا أَحَلَّهُ لَكَ ; لِأَنَّكَ شَكَوْتَ الْقَمْلَ ، فَأَمَّا غَيْرُكَ فَلَا .سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرتِ جوؤں کی شکایت کی، اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ، کیا آپ مجھے ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت مرحمت فرمائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو ایک روز عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے ابو سلمہ کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اور انہوں نے ریشمی قمیص پہنی ہوئی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھ کر فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ پھر اپنا ہاتھ قمیص کے گریبان میں ڈالا اور اسے نیچے تک پھاڑ دیا۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اسے حلال قرار دیا تھا؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”بیشک آپ ﷺ نے اسے آپ کے لیے اس لیے حلال فرمایا تھا کیونکہ آپ نے جوؤں کی شکایت کی تھی، جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے تو ان کے لیے یہ حلال نہیں۔“