کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: اسراف اور تکبر کے بغیر نعمت ظاہر کرنے کے استحباب کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَيِّئَ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : أَلَكَ مَالٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلْيُرَ أَثَرُهُ عَلَيْكَ ; فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ النِّعْمَةِ عَلَى عَبْدِهِ وَيَكْرَهُ الْبُؤْسَ وَالتَّبَاؤُسَ " .
ترجمہ
امام حارث رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زہیر بن ابی علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو خستہ حال (پریشان کن ہیئت) میں دیکھا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ اس شخص نے جواب دیا: ”ہاں! میرے پاس کئی قسم کا مال ہے۔“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر اس (مال) کا اثر تم پر ظاہر ہونا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند فرماتا ہے اور وہ خستہ حالی اور جان بوجھ کر خستہ حال بننے کو ناپسند فرماتا ہے۔“
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، يُحِبُّ أَنْ يَرَى [أَثَرَ] نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ .
ترجمہ
امام ابویعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہایت خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، اور وہ پسند کرتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے پر دیکھے۔“