المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ اسْتِحْبَابِ إظهار النعمة إِذَا لَمْ يكن سرف أَوْ مخيلة باب: اسراف اور تکبر کے بغیر نعمت ظاہر کرنے کے استحباب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2218
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَيِّئَ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : أَلَكَ مَالٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلْيُرَ أَثَرُهُ عَلَيْكَ ; فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ النِّعْمَةِ عَلَى عَبْدِهِ وَيَكْرَهُ الْبُؤْسَ وَالتَّبَاؤُسَ " .ترجمہ
امام حارث رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زہیر بن ابی علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو خستہ حال (پریشان کن ہیئت) میں دیکھا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ اس شخص نے جواب دیا: ”ہاں! میرے پاس کئی قسم کا مال ہے۔“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر اس (مال) کا اثر تم پر ظاہر ہونا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند فرماتا ہے اور وہ خستہ حالی اور جان بوجھ کر خستہ حال بننے کو ناپسند فرماتا ہے۔“