کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: رشوت کی مذمت اور اس کی برائی کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَعْنٍ الْمُجَاشِعِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ الطَّلْحِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ .
ترجمہ
مہاجرین کے ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ“ ”رِشْوَت دینے والا اور رِشْوَت لینے والا دونوں جَہَنَّم کی آگ میں ہوں گے۔“
اس حدیث کی تخریج اِمَام اَحْمَدُ بْنُ مَنِيْعٍ نے اپنی «مُسْنَد» میں کی ہے۔
اس حدیث کی تخریج اِمَام اَحْمَدُ بْنُ مَنِيْعٍ نے اپنی «مُسْنَد» میں کی ہے۔
قَالَ : وَحَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ .
2186 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ .
وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، وَهُوَ لَيِّنٌ .
2186 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ .
وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، وَهُوَ لَيِّنٌ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے رِشوت دینے والے «اَلرَّاشِی» اور رِشوت لینے والے «اَلْمُرْتَشِی» پر لعنت فرمائی ہے“۔
اسے اَبُو یَعْلٰی نے اَحْمَد بن مَنِیْع سے روایت کیا ہے۔
اور اِمام بَزَّار رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کو صرف اسی سند کے ساتھ جانتے ہیں، جس کی روایت کرنے میں اِسْحَاق بن یَحْیٰی منفرد ہیں، اور وہ لَیِّنٌ (کمزور راوی) ہیں“۔
اسے اَبُو یَعْلٰی نے اَحْمَد بن مَنِیْع سے روایت کیا ہے۔
اور اِمام بَزَّار رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کو صرف اسی سند کے ساتھ جانتے ہیں، جس کی روایت کرنے میں اِسْحَاق بن یَحْیٰی منفرد ہیں، اور وہ لَیِّنٌ (کمزور راوی) ہیں“۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللهِ عَنِ السُّحْتِ ؟ قَالَ : الرِّشَا ، قَالَ : فَالْجَوْرُ فِي الْحُكْمِ ؟ قَالَ : ذَاكَ الْكُفْرُ " .
2187 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا فِطْرٌ بِهَذَا ، وَلَفْظُهُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا السُّحْتُ ؟ قَالَ : الرِّشَا . قَالَ : فَالْجَوْرُ فِي الْحُكْمِ ؟ قَالَ : ذَاكَ الْكُفْرُ . [ثُمَّ قَرَأَ : وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ] .
تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ .
2187 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا فِطْرٌ بِهَذَا ، وَلَفْظُهُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا السُّحْتُ ؟ قَالَ : الرِّشَا . قَالَ : فَالْجَوْرُ فِي الْحُكْمِ ؟ قَالَ : ذَاكَ الْكُفْرُ . [ثُمَّ قَرَأَ : وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ] .
تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے «السُّحْتُ» ”حرام مال“ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد «الرِّشَا» (رِشوت) ہے“، اس نے پوچھا: تو پھر «الْجَوْرُ فِي الْحُكْمِ» ”فیصلے میں ناانصافی“ کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”وہ تو «الْكُفْرُ» (کفر) ہے“۔
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بھی ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا: «السُّحْتُ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”رِشوت ہے“، اس نے پوچھا: تو فیصلے میں ظلم و زیادتی کرنے کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ کفر ہے“، پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ ”اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ نہ کریں، تو وہی لوگ کافر ہیں“ [سورة المائدة: 44]۔
امام شعبہ رحمہ اللہ نے اس روایت میں منصور کی متابعت کی ہے اور اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے بھی تخریج کیا ہے۔
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بھی ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا: «السُّحْتُ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”رِشوت ہے“، اس نے پوچھا: تو فیصلے میں ظلم و زیادتی کرنے کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ کفر ہے“، پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ ”اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ نہ کریں، تو وہی لوگ کافر ہیں“ [سورة المائدة: 44]۔
امام شعبہ رحمہ اللہ نے اس روایت میں منصور کی متابعت کی ہے اور اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے بھی تخریج کیا ہے۔