المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الرشوة باب: رشوت کی مذمت اور اس کی برائی کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللهِ عَنِ السُّحْتِ ؟ قَالَ : الرِّشَا ، قَالَ : فَالْجَوْرُ فِي الْحُكْمِ ؟ قَالَ : ذَاكَ الْكُفْرُ " .
2187 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا فِطْرٌ بِهَذَا ، وَلَفْظُهُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا السُّحْتُ ؟ قَالَ : الرِّشَا . قَالَ : فَالْجَوْرُ فِي الْحُكْمِ ؟ قَالَ : ذَاكَ الْكُفْرُ . [ثُمَّ قَرَأَ : وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ] .
تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے «السُّحْتُ» ”حرام مال“ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد «الرِّشَا» (رِشوت) ہے“، اس نے پوچھا: تو پھر «الْجَوْرُ فِي الْحُكْمِ» ”فیصلے میں ناانصافی“ کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”وہ تو «الْكُفْرُ» (کفر) ہے“۔
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بھی ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا: «السُّحْتُ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”رِشوت ہے“، اس نے پوچھا: تو فیصلے میں ظلم و زیادتی کرنے کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ کفر ہے“، پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ ”اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ نہ کریں، تو وہی لوگ کافر ہیں“ [سورة المائدة: 44]۔
امام شعبہ رحمہ اللہ نے اس روایت میں منصور کی متابعت کی ہے اور اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے بھی تخریج کیا ہے۔