کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: رعایا سے پردہ کرنے یا ان پر تکبر کرنے والے عامل کو حاکم کی تادیب کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ سَعْدًا اتَّخَذَ بَابًا ، ثُمَّ قَالَ : انْقَطَعَ الصَّوِيتُ . فَبَعَثَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَتَاهُ فَقَالَ : انْطَلِقْ إِلَى سَعْدٍ فَأَحْرِقْ بَابَهُ ، ثُمَّ خُذْ بِيَدِهِ وَأَخْرِجْهُ إِلَى النَّاسِ وَقُلْ : هَاهُنَا فَاقْعُدْ لِلنَّاسِ . قَالَ : فَبَعَثَ مُحَمَّدٌ غُلَامَهُ مَكَانَهُ إِلَى مَنْزِلِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِرَاحِلَتَيْنِ ، وَزَادٍ عِنْدَ أَهْلِهِ ، وَانْطَلَقَ يَمْشِي قِبَلَ الْكُوفَةِ حَتَّى قَدِمَ جَبَّانَةَ الْكُوفَةِ ، فَرَأَى نَبَطِيًّا يَدْخُلُ الْكُوفَةَ بِقَصَبٍ عَلَى حِمَارٍ يَبِيعُهُ ، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ وَشَرَطَ عَلَيْهِ أَنْ يُلْقِيَهُ عِنْدَ بَابِ الْأَمِيرِ ، فَجَاءَ حَتَّى أَلْقَى قَصَبَهُ عِنْدَ بَابِ الْأَمِيرِ ، فَأَوْرَى زَنْدَهُ ، فَأَتَى سَعْدٌ فَقِيلَ : إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا أَسْوَدَ طَوِيلًا عَظِيمًا بَيْنَ إِزَارٍ وَرِدَاءٍ عَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ قَانِيَةٌ عَلَى غَيْرِ قَلَنْسِيَةٍ ، فَقَالَ : ذَاكَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، دَعُوهُ يَبْلُغْ حَاجَتَهُ لَا يَعْرِضُ لَهُ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ . فَأَحْرَقَ الْبَابَ حَتَّى صَارَ فَحْمًا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِ سَعْدٌ ، فَسَأَلَهُ وَحَلَفَ بِاللهِ مَا تَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ الَّتِي بَلَغَتْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَقَدْ بَلَّغَهُ كَاذِبٌ . قَالَ : فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْمَنْزِلَ لِيَدْخُلَ ، فَأَبَى ، وَانْصَرَفَ مَكَانَهُ رَاجِعًا ، قَالَ : فَأَتْبَعَهُ سَعْدٌ بِزَادِهِ ، فَرَدَّهُ مَعَ رَسُولِهِ وَقَالَ : ارْجِعْ بِطَعَامِكَ إِلَى صَاحِبِكَ ، فَإِنَّ لَهُ عِيَالًا وَإِنَّ مَعَنَا فَضْلَةً مِنْ زَادِنَا . قَالَ : فَسَارَ فَأَرْمَلَا أَيَّامًا ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا أَدْرَكْنَا مِنَ الْإِنْسِ امْرَأَةً فِي غَنَمٍ ، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ يُصَلِّي ، وَانْطَلَقَ الْغُلَامُ حَتَّى بَايَعَ صَاحِبَةَ الْغَنَمِ بِشَاةٍ صَغِيرَةٍ مِنْ غَنَمِهَا بِعِصَابَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَصَرَعَهَا يُرِيدُ أَنْ يَذْبَحَهَا ، وَمُحَمَّدٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَذْبَحَهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : مَا هَذِهِ الشَّاةُ ؟ فَإِنْ كَانَ فِي الْغَنَمِ صَاحِبُهَا ، فَبَايِعْهُ أَوْ سَلِّمْ بَيْعَ الْأَمَةِ فَأَقْبِلْ بِهَا ، وَإِنْ كَانَتْ إِنَّمَا هِيَ رَعِيَّةٌ فَرُدَّهَا ، فَإِنَّ الْجُوعَ خَيْرٌ مِنْ مَأْكَلِ السُّوءِ . قَالَ : ثُمَّ سَارَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي كَانَ ، وَبِمَا أَتْبَعُهُ سَعْدٌ ، فَرَدَّهُ مَعَ رَسُولِهِ . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَقْبَلَ مِنْهُ ؟
قُلْتُ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ لَكِنَّ فِيهِ انْقِطَاعًا .
2121 \ 2 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ يَقُولُ : بَلَغَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اتَّخَذَ بَابًا ثُمَّ قَالَ : انْقَطَعَ الصَّوْتُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَرَّقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِهِ فَأَخْرَجَهُ وَقَالَ : هَاهُنَا اجْلِسْ لِلنَّاسِ . فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَحَلَفَ لَهُ مَا تَكَلَّمْتُ الْكَلِمَةَ الَّتِي بَلَغَتْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ .
ترجمہ
عَبَايَہ بِن رَافِع بِن خَدِیج رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ سَیِّدُنَا عُمَر بْن الْخَطَّاب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کو یہ خبر پہنچی کہ سَیِّدُنَا سَعْد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے (اپنے محل میں) ایک دروازہ لگوا لیا ہے اور پھر کہا ہے: «اِنْقَطَعَ الصَّوَيْتُ» ”(اب لوگوں کا) شور و غل ختم ہو گیا ہے۔“ اس پر سَیِّدُنَا عُمَر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے سَیِّدُنَا مُحَمَّد بْن مَسْلَمَہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کو بلا بھیجا، جب وہ آئے تو فرمایا: ”سعد کے پاس جاؤ اور ان کا وہ دروازہ جلا دو، پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں لوگوں کے پاس لے آؤ اور کہو: یہاں بیٹھ کر لوگوں (کی فریاد) سنا کریں۔“ راوی کہتے ہیں کہ سَیِّدُنَا مُحَمَّد بْن مَسْلَمَہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے اپنی جگہ اپنے غلام کو گھر بھیجا اور اسے حکم دیا کہ وہ دو سواریاں اور گھر والوں سے کچھ زادِ راہ لے کر آئے، اور خود پیدل ہی کُوفَہ کی طرف روانہ ہو گئے یہاں تک کہ کُوفَہ کی چراگاہ «جَبَّانَة الْكُوفَةِ» پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے ایک نبطی دیہاتی کو دیکھا جو گدھے پر بیچنے کے لیے نرسل (سرکنڈے) لادے کُوفَہ میں داخل ہو رہا تھا، انہوں نے وہ نرسل اس سے خرید لیے اور اس سے یہ شرط طے کی کہ وہ انہیں امیر کے دروازے پر ڈال دے۔ وہ آیا اور نرسل امیر کے دروازے پر ڈال دیے، پھر سَیِّدُنَا مُحَمَّد بْن مَسْلَمَہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے اپنی چقماق سے آگ روشن کی۔ سَیِّدُنَا سَعْد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کو آ کر بتایا گیا کہ یہاں ایک طویل القامت، گندمی رنگت والے اور عظیم الجثہ شخص موجود ہیں جنہوں نے تہبند اور چادر اوڑھ رکھی ہے اور سر پر بغیر ٹوپی کے گہرے سرخ رنگ کا ریشمی عمامہ «عِمَامَةُ خَزٍّ قَانِيَةٌ» باندھ رکھا ہے، تو انہوں نے کہا: ”یہ محمد بن مسلمہ ہیں، انہیں ان کا مقصد پورا کرنے دو اور کوئی شخص ان سے تعرض نہ کرے۔“ چنانچہ انہوں نے وہ دروازہ جلا دیا یہاں تک کہ وہ کوئلہ بن گیا، پھر سَیِّدُنَا سَعْد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ان کے پاس باہر نکل کر آئے اور ان سے (معاملہ) دریافت کیا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے وہ بات ہرگز نہیں کہی جو اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن کو پہنچی ہے بلکہ کسی جھوٹے نے ان تک یہ بات پہنچائی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سَیِّدُنَا سَعْد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے انہیں گھر میں داخل ہونے کی دعوت دی لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور وہیں سے واپس لوٹ گئے۔ سَیِّدُنَا سَعْد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ان کے پیچھے زادِ راہ بھیجا لیکن انہوں نے وہ ان کے قاصد کے ہاتھ واپس کر دیا اور فرمایا: ”اپنا کھانا اپنے صاحب کے پاس لے جاؤ، ان کے تو عیال دار ہیں جبکہ ہمارے پاس ہماری ضرورت سے زائد توشہ موجود ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ چلتے رہے یہاں تک کہ چند دنوں بعد ان کا توشہ ختم ہو گیا، پھر انسانوں میں سے سب سے پہلے انہیں ایک عورت ملی جو بکریاں چرا رہی تھی، سَیِّدُنَا مُحَمَّد بْن مَسْلَمَہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے اور ان کا غلام گیا اور اس عورت سے ایک چھوٹی بکری کا سودا اپنے سر پر بندھے پٹکے «عِصَابَة» کے بدلے میں کر لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ غلام نے بکری کو ذبح کرنے کے لیے پچھاڑ دیا جبکہ محمد بن مسلمہ نماز میں کھڑے تھے، انہوں نے اشارے سے اسے منع کیا کہ اسے ذبح نہ کرے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ”یہ بکری کیسی ہے؟ اگر ان بکریوں میں ان کا مالک موجود ہے تو اس سے سودا کرو یا اس چرواہی کی بیع کو مکمل کر کے اسے ساتھ لے آؤ، اور اگر یہ صرف ریوڑ کی رکھوالی کر رہی ہے تو اسے واپس کر دو، کیونکہ بھوک کسی مشکوک کھانے سے بہتر ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ چلتے رہے یہاں تک کہ سَیِّدُنَا عُمَر بْن الْخَطَّاب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کے پاس پہنچ گئے اور انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ سَیِّدُنَا سَعْد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ان کے پیچھے زادِ راہ بھیجا تھا جسے انہوں نے واپس کر دیا تھا۔ سَیِّدُنَا عُمَر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے پوچھا: ”تمہیں ان کا ہدیہ قبول کرنے سے کس چیز نے روکا تھا؟“
میں (امام اسحاق یا مؤلف) کہتا ہوں: اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن اس میں انقطاع (سند کا ٹوٹنا) پایا جاتا ہے۔
سَیِّدُنَا مُسَدَّد رَحِمَہُ اللہُ نے کہا کہ ہمیں یحییٰ نے ابوحیان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عَبَايَہ بْن رِفَاعَہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کو کہتے سنا کہ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن سَیِّدُنَا عُمَر بْن الْخَطَّاب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کو یہ خبر پہنچی کہ سَیِّدُنَا سَعْد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ایک دروازہ بنوایا ہے اور پھر کہا کہ «اِنْقَطَعَ الصَّوْتُ» ”(اب) شور و غل بند ہو گیا ہے“، تو سَیِّدُنَا عُمَر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ان کی طرف (آدمی) بھیجا جس نے اسے جلا دیا، پھر سَیِّدُنَا مُحَمَّد بْن مَسْلَمَہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں باہر نکالا اور کہا: ”یہاں بیٹھ کر لوگوں (کی فریاد) سنا کریں۔“ اس پر سَیِّدُنَا سَعْد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ان سے معذرت کی اور ان کے سامنے قسم کھائی کہ میں نے وہ بات نہیں کہی جو اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن تک پہنچی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2121
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجال إسناد إسحاق كلّهم ثقات، غير أنه منقطع كما ذكر المصنّف في الأصل، لأن عباية بن رفاعة لم يسمع من عمر رضي الله عنه، ولا أدركه، فروايته مرسلة كما نصّ على ذلك أبو زرعة (جامع التحصيل ص 207). »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 243، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7401، وأخرجه مسند أحمد برقم: 397، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2121 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 321»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : إِنَّ غَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ : وَقَالَ غَرَفَةُ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّكَ إِذَا جَلَسْتَ مَعَنَا اتَّكَأْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَلَا تَفْعَلْ ; فَإِنَّكَ إِنْ عُدْتَ كَتَبْتَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَعَادَ عَمْرٌو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَتَبَ غَرَفَةُ ، فَجَاءَ قَاصِدُ عُمَرَ إِلَى عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : بَلَغَنِي أَنَّكَ إِذَا جَلَسْتَ مَعَ أَصْحَابِكَ اتَّكَأْتَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ كَمَا يَفْعَلُ الْأَعَاجِمُ ، فَلَا تَفْعَلِ ، اجْلِسْ مَعَهُمْ مَا جَلَسْتَ ، فَإِذَا دَخَلْتَ بَيْتَكَ فَافْعَلْ مَا بَدَا لَكَ . قَالَ عَمْرٌو لِغَرَفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَدْ أُثْبِتَ عَلَيَّ عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ غَرَفَةُ : مَا عَهِدْتَنِي كَذَّابًا . قَالَ : فَكَانَ عَمْرٌو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ يُرِيدُ أَنْ يَتَّكِئَ فَيَذْكُرُ فَيَجْلِسُ ، وَيَقُولُ : اللهُ بَيْنِي وَبَيْنَ غَرَفَةَ . قَالَ : وَخَرَجُوا ذَاتَ يَوْمٍ ، فَكَانَ يَوْمَ ضَبَابٍ ، فَتَقَدَّمَ فَرَسُ غَرَفَةَ فَرَسَ عَمْرٍو . فَقَالَ عَمْرٌو : وَمَا يَوْمِي مِنْ غَرَفَةَ بِوَاحِدٍ . فَقِيلَ لِغَرَفَةَ : إِنَّ الْأَمِيرَ قَالَ : كَذَا وَكَذَا . قَالَ : إِنِّي لَمْ أُبْصِرْهُ مِنَ الضَّبَابِ . قِيلَ : فَاعْتَذِرْ لَهُ . قَالَ : لَا تُعَوِّدُوهُمْ هَذَا ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أُبْصِرْكَ مِنَ الضَّبَابِ . فَقَالَ : اللَّهُمَّ غُفْرًا ، لَوْ شِئْتَ أَمْسَكْتَ فَرَسَكَ . فَقَالَ : وَاللهِ لَوَدِدْتُ لَوْ رَمَى بِكَ فِي أَقْصَى حَجَرٍ فِي الْمَرْجِ ، أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ بِالضَّبَابِ ، وَإِنِّي لَمْ أُبْصِرْكَ وَتَقُولُ : اللَّهُمَّ غُفْرًا ؟ فَقَالَ عَمْرٌو : يَا أَبَا الْحَارِثِ ، قَدْ رَأَيْتُكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا عَلَى فَرَسٍ ذَلُولٍ ، أَفَلَا نَحْمِلُكَ عَلَى فَرَسٍ ؟ قَالَ : مَا عَهِدْتُكَ يَا عَمْرُو تَحْمِلُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَمِنْ أَيْنَ هَذَا ؟
ترجمہ
سیدنا کعب بن علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا غَرَفَةُ بْنُ الْحَارِثِ رضی اللہ عنہ (جو کہ صَحَابِیِ رَسُول ﷺ تھے) نے سیدنا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بے شک آپ جب ہمارے ساتھ بیٹھتے ہیں تو ہمارے درمیان تکیہ لگا کر ٹیک لگاتے ہیں، لہٰذا آئندہ ایسا نہ کیجیے گا، کیونکہ اگر آپ نے دوبارہ ایسا کیا تو میں سیدنا عُمَر رضی اللہ عنہ کو (اس معاملے میں) خط لکھ دوں گا۔“ پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے دوبارہ وہی عمل کیا تو سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ نے خط لکھ دیا، جس کے نتیجے میں سیدنا عُمَر رضی اللہ عنہ کا قاصد سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: (امیر المؤمنین کا حکم ہے کہ) ”مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ جب آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو ان کے درمیان «الْأَعَاجِمُ» ”غیر عربوں“ کی طرح ٹیک لگا کر بیٹھتے ہیں؛ خبردار! ایسا ہرگز نہ کریں، جب تک ان کے ساتھ بیٹھیں (عجز و تواضع کے ساتھ) بیٹھیں اور جب اپنے گھر میں داخل ہو جائیں تو پھر جو آپ کا جی چاہے کریں۔“ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم نے عُمَر رضی اللہ عنہ کے ہاں میرا (یہ عمل بطورِ جرم) ثابت کروا دیا۔“ تو سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”آپ نے کبھی مجھے جھوٹا نہیں پایا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ جب کبھی ٹیک لگانے کا ارادہ کرتے تو انہیں یہ تنبیہ یاد آ جاتی اور وہ (فوراً) سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے اور کہتے: ”اللہ ہی میرے اور غرفہ کے درمیان (فیصلہ کرنے والا) ہے۔“ پھر ایک دن وہ لوگ (کسی سفر یا مہم پر) نکلے، اس دن سخت دھند چھائی ہوئی تھی، تو سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے گھوڑے سے آگے نکل گیا۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے (پہلی ناگواری کو یاد کر کے) کہا: ”غرفہ کے ہاتھوں میرا یہ دن کوئی پہلا (ناخوشگوار دن) نہیں ہے۔“ جب سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ امیر نے ایسا ایسا کہا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”(اللہ کی قسم!) دھند کی وجہ سے میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں تھا۔“ ان سے کہا گیا کہ آپ ان سے معذرت کر لیں، تو انہوں نے فرمایا: ”تم ان (حکام) کو اس بات کا عادی نہ بناؤ۔“ لیکن لوگ مسلسل ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آئے اور کہا: ”میں نے دھند کی وجہ سے آپ کو دیکھا ہی نہیں تھا۔“ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللَّهُمَّ غُفْرًا» ”اے اللہ! مغفرت فرما“، (پھر کہا) ”اگر تم چاہتے تو اپنا گھوڑا روک سکتے تھے۔“ اس پر سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ نے (جلال میں آ کر) فرمایا: ”اللہ کی قسم! میری تو یہ دلی خواہش تھی کہ وہ (گھوڑا) تمہیں چراگاہ کے کسی دور دراز پتھر پر دے مارے؛ میں تم سے دھند کا عذر پیش کر رہا ہوں کہ میں نے تمہیں دیکھا نہیں اور تم (معافی قبول کرنے کے بجائے) کہتے ہو کہ «اللَّهُمَّ غُفْرًا» ”اے اللہ! مغفرت فرما“ (گویا قصور میرا ہی ہے)؟“ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے (معاملہ سلجھانے کے لیے) کہا: ”اے ابوالحارث! میں نے تمہیں فلاں فلاں دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک نہایت سدھائے ہوئے گھوڑے پر سوار دیکھا تھا، تو کیا ہم تمہیں (ایک عمدہ) گھوڑے پر سوار نہ کرائیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اے عمرو! میرا تمہارے بارے میں یہ تجربہ تو نہیں رہا کہ تم (لوگوں کو) گھوڑے سواری کے لیے دیتے ہو، تو یہ (سخاوت) کہاں سے آ گئی؟“
یہ روایت مُسْنَدُ أَبِي يَعْلَى (2122) میں موجود ہے اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد أبي يعلى حسن رجاله كلّهم ثقات غير كعب بن علقمة وهو صدوق. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18777، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2032، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 654، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8748»