کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: قتال سے پہلے دعوتِ اسلام دینے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَجْهًا ، ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ : الْحَقْهُ وَلَا تُذْعِرْهُ مِنْ خَلْفِهِ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَنْتَظِرَهُ ، وَقُلْ لَهُ : لَا تُقَاتِلْ قَوْمًا حَتَّى تَدْعُوَهُمْ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی اکرم ﷺ نے انہیں کسی سمت مہم پر روانہ فرمایا، پھر آپ ﷺ نے ایک شخص سے ارشاد فرمایا: ”تم ان کے پیچھے جاؤ اور انہیں پیچھے سے (اچانک پہنچ کر) ہراساں نہ کرنا، بلکہ ان سے کہنا کہ نبی کریم ﷺ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان کا انتظار کریں، نیز ان سے یہ بھی کہنا کہ: ”کسی قوم سے اس وقت تک قتال نہ کریں جب تک کہ آپ انہیں (دین کی) دعوت نہ دے دیں۔“““
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2018
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث الباب رجال إسناده كلهم ثقات، غير أنه منقطع؛ لأن يحيى بن إسحاق لم يدرك علي بن أبي طالب قطعًا، وقد نصّ أبو حاتم على أن حديث يحيى عن البراء بن عازب مرسل كما في جامع التحصيل (ص 296)، والبراء مات سنة 72 هـ، فمن باب أولى لم يدرك عليًا رضي الله عنه؛ لأنه توفي سنة 40 هـ. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 4، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4387»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى - هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ بَعْثًا قَالَ : تَأَلَّفُوا النَّاسَ ، وَتَأَنَّوْا بِهِمْ ، وَلَا تُغِيرُوا عَلَيْهِمْ حَتَّى تَدْعُوهُمْ ، فَمَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ ، إِلَّا وَأَنْ تَأْتُونِي بِهِمْ مُسْلِمِينَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَقْتُلُوا رِجَالَهُمْ ، وَتَأْتُونِي بِنِسَائِهِمْ .
2019 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فِي إِسْنَادِهِ .
ترجمہ
سیدنا عبد الرحمن بن عائذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کبھی کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تو ارشاد فرماتے: ”لوگوں کی تالیفِ قلب کرو (ان کے دل جیتو) اور ان کے ساتھ نرمی و صبر کا معاملہ کرو، اور ان پر اس وقت تک حملہ نہ کرو جب تک تم انہیں (اسلام کی) دعوت نہ دے دو، کیونکہ روئے زمین پر مٹی کے بنے گھروں میں رہنے والے ہوں یا بالوں کے بنے خیموں میں رہنے والے خانہ بدوش، کسی بھی گھرانے کے متعلق یہ بات کہ تم انہیں میرے پاس مسلمان بنا کر لے آؤ، مجھے اس سے کہیں زیادہ محبوب ہے کہ تم ان کے مردوں کو قتل کر دو اور ان کی عورتوں کو (قیدی بنا کر) میرے پاس لے آؤ۔“ امام حارث نے بھی اپنی سند سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، البتہ انہوں نے اپنی سند میں سیدنا عبد الرحمن بن عائذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2019
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث رجال إسناده ثقات، لكنه مرسل. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2019 / 2»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى اللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَأَغَارُوا عَلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ ، فَسَبَوْا مُقَاتِلِيهِمْ وَذُرِّيَّتَهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَغَارُوا عَلَيْنَا بِغَيْرِ دُعَاءٍ فَسَأَلَ أَهْلَ السَّرِيَّةِ فَصَدَّقُوهُمْ ، فَقَالَ : رُدُّوهُمْ إِلَى مَأْمَنِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُوهُمْ .
ترجمہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لات اور عزیٰ (کے بتوں کو ڈھانے) کے لیے ایک لشکر روانہ فرمایا، پس انہوں نے عرب کے ایک قبیلے پر چھاپہ مارا اور ان کے جنگجوؤں اور ذریت کو قیدی بنا لیا، تو ان لوگوں نے (دربارِ رسالت میں) عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ان لوگوں نے ہمیں (اسلام کی) دعوت دیے بغیر ہی ہم پر حملہ کر دیا ہے“، پس آپ ﷺ نے اس سریہ کے شرکاء سے باز پرس کی تو انہوں نے ان کے بیان کی تصدیق کی، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انہیں واپس ان کی جائے امن تک پہنچاؤ اور پھر انہیں دعوتِ اسلام دو۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2020
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا، فيه الواقدي، وهو متروك. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18300»