المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدعوة قَبْلَ القتال باب: قتال سے پہلے دعوتِ اسلام دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2018
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَجْهًا ، ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ : الْحَقْهُ وَلَا تُذْعِرْهُ مِنْ خَلْفِهِ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَنْتَظِرَهُ ، وَقُلْ لَهُ : لَا تُقَاتِلْ قَوْمًا حَتَّى تَدْعُوَهُمْ .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی اکرم ﷺ نے انہیں کسی سمت مہم پر روانہ فرمایا، پھر آپ ﷺ نے ایک شخص سے ارشاد فرمایا: ”تم ان کے پیچھے جاؤ اور انہیں پیچھے سے (اچانک پہنچ کر) ہراساں نہ کرنا، بلکہ ان سے کہنا کہ نبی کریم ﷺ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان کا انتظار کریں، نیز ان سے یہ بھی کہنا کہ: ”کسی قوم سے اس وقت تک قتال نہ کریں جب تک کہ آپ انہیں (دین کی) دعوت نہ دے دیں۔“““