❮
❯
حدیث نمبر: 2020
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى اللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَأَغَارُوا عَلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ ، فَسَبَوْا مُقَاتِلِيهِمْ وَذُرِّيَّتَهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَغَارُوا عَلَيْنَا بِغَيْرِ دُعَاءٍ فَسَأَلَ أَهْلَ السَّرِيَّةِ فَصَدَّقُوهُمْ ، فَقَالَ : رُدُّوهُمْ إِلَى مَأْمَنِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُوهُمْ .
ترجمہ

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لات اور عزیٰ (کے بتوں کو ڈھانے) کے لیے ایک لشکر روانہ فرمایا، پس انہوں نے عرب کے ایک قبیلے پر چھاپہ مارا اور ان کے جنگجوؤں اور ذریت کو قیدی بنا لیا، تو ان لوگوں نے (دربارِ رسالت میں) عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ان لوگوں نے ہمیں (اسلام کی) دعوت دیے بغیر ہی ہم پر حملہ کر دیا ہے“، پس آپ ﷺ نے اس سریہ کے شرکاء سے باز پرس کی تو انہوں نے ان کے بیان کی تصدیق کی، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انہیں واپس ان کی جائے امن تک پہنچاؤ اور پھر انہیں دعوتِ اسلام دو۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2020
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا، فيه الواقدي، وهو متروك. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18300»