المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الكتابة إِلَى أهل الشرك قَبْلَ غزوهم باب: مشرکین سے جنگ سے پہلے انہیں خط لکھنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ مَعًا : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ : مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا . قَالُوا : فَمَا وَجَدْنَا مَنْ يَقْرَؤُهُ إِلَّا رَجُلًا مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ فَهُمْ يُسَمَّوْنَ بَنِي الْكَاتِبِ .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے قبیلہ بکر بن وائل کی جانب ایک مکتوبِ گرامی تحریر فرمایا: «مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا» ”اللہ کے رسول محمد ﷺ کی جانب سے بکر بن وائل کے نام؛ اسلام لے آؤ، سلامتی پا جاؤ گے۔“ وہ (اہلِ قبیلہ) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس خط کو پڑھنے کے لیے قبیلہ بنی ضبیعہ کے ایک شخص کے سوا کوئی دوسرا میسر نہ آیا، چنانچہ اسی مناسبت سے ان لوگوں کو ’بنی الکاتب‘ (کاتب کی اولاد) پکارا جانے لگا۔“ امام بزار فرماتے ہیں کہ اس روایت کی معرفت صرف اسی سند سے ممکن ہے، جبکہ امام ابنِ حبان نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔