المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدعوة قَبْلَ القتال باب: قتال سے پہلے دعوتِ اسلام دینے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى - هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ بَعْثًا قَالَ : تَأَلَّفُوا النَّاسَ ، وَتَأَنَّوْا بِهِمْ ، وَلَا تُغِيرُوا عَلَيْهِمْ حَتَّى تَدْعُوهُمْ ، فَمَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ ، إِلَّا وَأَنْ تَأْتُونِي بِهِمْ مُسْلِمِينَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَقْتُلُوا رِجَالَهُمْ ، وَتَأْتُونِي بِنِسَائِهِمْ .
2019 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فِي إِسْنَادِهِ .سیدنا عبد الرحمن بن عائذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کبھی کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تو ارشاد فرماتے: ”لوگوں کی تالیفِ قلب کرو (ان کے دل جیتو) اور ان کے ساتھ نرمی و صبر کا معاملہ کرو، اور ان پر اس وقت تک حملہ نہ کرو جب تک تم انہیں (اسلام کی) دعوت نہ دے دو، کیونکہ روئے زمین پر مٹی کے بنے گھروں میں رہنے والے ہوں یا بالوں کے بنے خیموں میں رہنے والے خانہ بدوش، کسی بھی گھرانے کے متعلق یہ بات کہ تم انہیں میرے پاس مسلمان بنا کر لے آؤ، مجھے اس سے کہیں زیادہ محبوب ہے کہ تم ان کے مردوں کو قتل کر دو اور ان کی عورتوں کو (قیدی بنا کر) میرے پاس لے آؤ۔“ امام حارث نے بھی اپنی سند سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، البتہ انہوں نے اپنی سند میں سیدنا عبد الرحمن بن عائذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔