کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: مجاہد کو رخصت کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَيَّعَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى حَتَّى يَنْزِلُوا أَوَّلَ مَنْزِلٍ فَيَبِيتُ مَعَهُمْ حَتَّى يَرْتَحِلُوا مُوَجَّهِينَ فِي الْجِهَادِ ، وَيُقْبِلُ هُوَ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ ، كَانَ لَهُ أَجْرُ سَبْعِينَ حَجَّةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سِوَى مَا يُشْرِكُهُمْ فِيمَا كَانُوا فِيهِ مِنْ خَيْرٍ .
ترجمہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلنے والے غازیوں کو رخصت کیا یہاں تک کہ وہ اپنی پہلی منزل پر فروکش ہوئے، پھر اس نے ان کے ساتھ رات گزاری یہاں تک کہ وہ جہاد کے رخ پر کوچ کر گئے اور یہ شخص واپس اپنے اہل و عیال میں لوٹ آیا، تو اس کے لیے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ستر حج ادا کرنے کا ثواب لکھا جائے گا، اور یہ اس اجر کے علاوہ ہے جس میں وہ ان مجاہدین کے ساتھ ان کے عملِ خیر کی بدولت پہلے ہی شریک ہو چکا ہے“۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، نَحْوَهُ . لَكِنْ قَالَ : كَأَنَّمَا حَجَّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ حَجَّةً بَدَلَ : سَبْعِينَ .
ترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل (سابقہ روایت کے ہم معنی) حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ستر حج کے بجائے یہ الفاظ منقول ہیں کہ ”گویا اس نے پچیس حج ادا کیے“۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ ، فَمَشَى مَعَهُمْ نَحْوًا مِنْ مِيلَيْنِ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ ، لَوِ انْصَرَفْتَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا ; إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى حَرَّمَهُمَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ التَّمَّارِ ، بِالْمَرْفُوعِ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ التَّمَّارِ ، بِالْمَرْفُوعِ .
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب سیدنا یزید بن ابی سفیان کو شام کی جانب (لشکر دے کر) روانہ کیا تو آپ خود ان کے ساتھ تقریباً دو میل تک پیدل چلے، آپ سے عرض کیا گیا کہ اے خلیفہ رسول! کاش کہ اب آپ واپس تشریف لے جاتے؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "ہرگز نہیں؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”جس شخص کے قدم اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہوئے، اللہ عزوجل ان دونوں (قدموں) کو جہنم کی آگ پر حرام فرما دے گا۔“"
اس حدیث کو امام بزار نے عمرو بن علی کے واسطے سے ابو نصر التمار سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام بزار نے عمرو بن علی کے واسطے سے ابو نصر التمار سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔