المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ شيع مجاهدا باب: مجاہد کو رخصت کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ ، فَمَشَى مَعَهُمْ نَحْوًا مِنْ مِيلَيْنِ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ ، لَوِ انْصَرَفْتَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا ; إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى حَرَّمَهُمَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ التَّمَّارِ ، بِالْمَرْفُوعِ .سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب سیدنا یزید بن ابی سفیان کو شام کی جانب (لشکر دے کر) روانہ کیا تو آپ خود ان کے ساتھ تقریباً دو میل تک پیدل چلے، آپ سے عرض کیا گیا کہ اے خلیفہ رسول! کاش کہ اب آپ واپس تشریف لے جاتے؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "ہرگز نہیں؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”جس شخص کے قدم اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہوئے، اللہ عزوجل ان دونوں (قدموں) کو جہنم کی آگ پر حرام فرما دے گا۔“"
اس حدیث کو امام بزار نے عمرو بن علی کے واسطے سے ابو نصر التمار سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔