❮
❯
حدیث نمبر: 1959
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَيَّعَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى حَتَّى يَنْزِلُوا أَوَّلَ مَنْزِلٍ فَيَبِيتُ مَعَهُمْ حَتَّى يَرْتَحِلُوا مُوَجَّهِينَ فِي الْجِهَادِ ، وَيُقْبِلُ هُوَ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ ، كَانَ لَهُ أَجْرُ سَبْعِينَ حَجَّةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سِوَى مَا يُشْرِكُهُمْ فِيمَا كَانُوا فِيهِ مِنْ خَيْرٍ .
ترجمہ

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلنے والے غازیوں کو رخصت کیا یہاں تک کہ وہ اپنی پہلی منزل پر فروکش ہوئے، پھر اس نے ان کے ساتھ رات گزاری یہاں تک کہ وہ جہاد کے رخ پر کوچ کر گئے اور یہ شخص واپس اپنے اہل و عیال میں لوٹ آیا، تو اس کے لیے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ستر حج ادا کرنے کا ثواب لکھا جائے گا، اور یہ اس اجر کے علاوہ ہے جس میں وہ ان مجاہدین کے ساتھ ان کے عملِ خیر کی بدولت پہلے ہی شریک ہو چکا ہے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1959
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا، فيه داود بن المحبّر وعبّاد بن كثير متروكان باتفاق. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»