کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: حمل کے دوران عورت کو ملنے والے اجر کا بیان۔
❮
❯
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، نَبَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلْمَرْأَةِ فِي حَمْلِهَا إِلَى وَضْعِهَا ، إِلَى فِصَالِهَا مِنَ الْأَجْرِ ، كَالْمُتَشَحِّطِ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَإِنْ هَلَكَتْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ فَلَهَا أَجْرُ شَهِيدٍ ".
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (اور راوی کا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا) کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً ایک عورت کے لیے اس کے حمل ٹھہرنے سے لے کر وضعِ حمل اور پھر بچے کا دودھ چھڑانے تک کے تمام مراحل میں اتنا ہی عظیم اجر ہے جتنا اللہ کی راہ میں اپنے خون میں لتھڑے ہوئے مجاہد کا ہوتا ہے، اور اگر وہ اس درمیانی مدت کے دوران وفات پا جائے تو اسے شہید کا اجر و مرتبہ عطا کیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1762
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث الباب ضعيف، لضعف قيس بن الربيع، ولعل هذا الحديث من تلك المناكير التي أدخلها عليه ابنه السيء، وانظر المجروحين (2/ 216). »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7630»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبٌ - هُوَ ابْنُ بَقِيَّةَ - ، نَبَا خَالِدٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ امْرَأَةً وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَبَقِيَّتُهُنَّ فِي النَّارِ " . فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَةَ إِذَا حَمَلَتْ فَإِنَّ لَهَا أَجْرَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْمُحْرِمِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى . فَإِذَا وَضَعَتْ فَإِنَّ لَهَا فِي أَوَّلِ رَضْعَةٍ أَجْرَ حَيَاةِ نَسَمَةٍ ".
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ننانوے عورتوں میں سے محض ایک جنت میں جائے گی جبکہ ان کی بقیہ تعداد دوزخ میں ہوگی۔“ یہ سن کر وہاں موجود مہاجرین پر یہ بات نہایت شاق گزری، تو رسول اللہ ﷺ نے (ان کی تسلی کی خاطر) ارشاد فرمایا: ”بے شک مسلمان عورت جب حاملہ ہوتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں روزہ رکھنے والے، شب بیداری کرنے والے، احرام باندھنے والے اور جہاد کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے، اور جب وہ بچے کو جنم دیتی ہے تو اسے بچے کو پہلی مرتبہ دودھ پلانے کے عوض ایک جان کو زندگی بخشنے جتنا ثواب ملتا ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1763
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 2460»