المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا للمرأة مِنْ الأجر إِذَا حملت باب: حمل کے دوران عورت کو ملنے والے اجر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1762
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، نَبَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلْمَرْأَةِ فِي حَمْلِهَا إِلَى وَضْعِهَا ، إِلَى فِصَالِهَا مِنَ الْأَجْرِ ، كَالْمُتَشَحِّطِ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَإِنْ هَلَكَتْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ فَلَهَا أَجْرُ شَهِيدٍ ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (اور راوی کا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا) کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً ایک عورت کے لیے اس کے حمل ٹھہرنے سے لے کر وضعِ حمل اور پھر بچے کا دودھ چھڑانے تک کے تمام مراحل میں اتنا ہی عظیم اجر ہے جتنا اللہ کی راہ میں اپنے خون میں لتھڑے ہوئے مجاہد کا ہوتا ہے، اور اگر وہ اس درمیانی مدت کے دوران وفات پا جائے تو اسے شہید کا اجر و مرتبہ عطا کیا جاتا ہے۔“