المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا للمرأة مِنْ الأجر إِذَا حملت باب: حمل کے دوران عورت کو ملنے والے اجر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1763
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبٌ - هُوَ ابْنُ بَقِيَّةَ - ، نَبَا خَالِدٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ امْرَأَةً وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَبَقِيَّتُهُنَّ فِي النَّارِ " . فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَةَ إِذَا حَمَلَتْ فَإِنَّ لَهَا أَجْرَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْمُحْرِمِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى . فَإِذَا وَضَعَتْ فَإِنَّ لَهَا فِي أَوَّلِ رَضْعَةٍ أَجْرَ حَيَاةِ نَسَمَةٍ ".ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ننانوے عورتوں میں سے محض ایک جنت میں جائے گی جبکہ ان کی بقیہ تعداد دوزخ میں ہوگی۔“ یہ سن کر وہاں موجود مہاجرین پر یہ بات نہایت شاق گزری، تو رسول اللہ ﷺ نے (ان کی تسلی کی خاطر) ارشاد فرمایا: ”بے شک مسلمان عورت جب حاملہ ہوتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں روزہ رکھنے والے، شب بیداری کرنے والے، احرام باندھنے والے اور جہاد کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے، اور جب وہ بچے کو جنم دیتی ہے تو اسے بچے کو پہلی مرتبہ دودھ پلانے کے عوض ایک جان کو زندگی بخشنے جتنا ثواب ملتا ہے۔“