کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: مذاق میں دی گئی طلاق کے نافذ ہونے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، بَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجُوزُ اللَّعِبُ فِي ثَلَاثٍ : الطَّلَاقِ ، وَالنِّكَاحِ ، وَالْعَتَاقِ . فَمَنْ قَالَهُنَّ فَقَدْ وَجَبْنَ ".
ترجمہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین معاملات میں ہنسی مذاق اور کھیل تماشا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے: طلاق، نکاح اور غلام کو آزاد کرنا؛ لہٰذا جس کسی نے بھی (خواہ سنجیدگی سے یا محض مذاق میں) یہ الفاظ زبان سے نکالے تو وہ اس پر لازم اور نافذ ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1705
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1706»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَيَقُولُ : كُنْتُ لَاعِبًا ، وَيُعْتِقُ مَمْلُوكَهُ وَيَقُولُ : كُنْتُ لَاعِبًا ، وَيُزَوِّجُ ابْنَتَهُ وَيَقُولُ : كُنْتُ لَاعِبًا . وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ قَالَهُنَّ لَاعِبًا فَهُنَّ جَائِزَاتٌ عَلَيْهِ : الطَّلَاقُ ، وَالْعَتَاقُ ، وَالنِّكَاحُ " .
فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ : وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللهِ هُزُوًا .
ترجمہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا اور پھر کہتا کہ میں تو محض مذاق کر رہا تھا، یا اپنے غلام کو آزاد کر دیتا اور کہتا کہ میں تو کھیل کود کے طور پر ایسا کہہ رہا تھا، یا اپنی بیٹی کا نکاح کر دیتا اور کہتا کہ میں تو صرف دل لگی کر رہا تھا؛ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین کام ایسے ہیں کہ جو شخص انہیں محض مذاق کے طور پر بھی زبان سے نکالے تو وہ اس پر شرعاً نافذ ہو جاتے ہیں: طلاق، غلام کی آزادی اور نکاح۔“
اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر اللہ عزوجل نے یہ حکم نازل فرمایا: ﴿وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللهِ هُزُوًا﴾ (سورۃ البقرہ: 231) یعنی "اور اللہ کے احکامات کو ہنسی مذاق کا نشانہ نہ بناؤ"۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1706
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7528، 7529، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3139/1»