المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إمضاء الطلاق فِي الهزل باب: مذاق میں دی گئی طلاق کے نافذ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1705
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، بَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجُوزُ اللَّعِبُ فِي ثَلَاثٍ : الطَّلَاقِ ، وَالنِّكَاحِ ، وَالْعَتَاقِ . فَمَنْ قَالَهُنَّ فَقَدْ وَجَبْنَ ".ترجمہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین معاملات میں ہنسی مذاق اور کھیل تماشا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے: طلاق، نکاح اور غلام کو آزاد کرنا؛ لہٰذا جس کسی نے بھی (خواہ سنجیدگی سے یا محض مذاق میں) یہ الفاظ زبان سے نکالے تو وہ اس پر لازم اور نافذ ہو جائیں گے۔“