المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إمضاء الطلاق فِي الهزل باب: مذاق میں دی گئی طلاق کے نافذ ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَيَقُولُ : كُنْتُ لَاعِبًا ، وَيُعْتِقُ مَمْلُوكَهُ وَيَقُولُ : كُنْتُ لَاعِبًا ، وَيُزَوِّجُ ابْنَتَهُ وَيَقُولُ : كُنْتُ لَاعِبًا . وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ قَالَهُنَّ لَاعِبًا فَهُنَّ جَائِزَاتٌ عَلَيْهِ : الطَّلَاقُ ، وَالْعَتَاقُ ، وَالنِّكَاحُ " .
فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ : وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللهِ هُزُوًا .سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا اور پھر کہتا کہ میں تو محض مذاق کر رہا تھا، یا اپنے غلام کو آزاد کر دیتا اور کہتا کہ میں تو کھیل کود کے طور پر ایسا کہہ رہا تھا، یا اپنی بیٹی کا نکاح کر دیتا اور کہتا کہ میں تو صرف دل لگی کر رہا تھا؛ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین کام ایسے ہیں کہ جو شخص انہیں محض مذاق کے طور پر بھی زبان سے نکالے تو وہ اس پر شرعاً نافذ ہو جاتے ہیں: طلاق، غلام کی آزادی اور نکاح۔“
اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر اللہ عزوجل نے یہ حکم نازل فرمایا: ﴿وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللهِ هُزُوًا﴾ (سورۃ البقرہ: 231) یعنی "اور اللہ کے احکامات کو ہنسی مذاق کا نشانہ نہ بناؤ"۔