کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: نگاہ ڈالنے کے شرعی احکام کا بیان
❮
❯
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ رَأَيْتُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْنِي " ، وَكَانَ يُقَالُ : لَا يَضُرُّكَ حُسْنُ امْرَأَةٍ لَا تَعْرِفُهَا .
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ایک مرتبہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک عورت پر پڑی جو مجھے بھلی معلوم ہوئی،“ اور یہ کہا جاتا تھا کہ: ”جس عورت کو تم نہ جانتے ہو، اس کا حسن و جمال تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1587
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد أثر الباب ثقات. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 17509»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ الْغِفَارِيَّ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ ".
ترجمہ
سیدنا علقمہ بن حویرث غفاری رضی اللہ عنہ، جو کہ اصحابِ رسول ﷺ میں سے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دونوں آنکھوں کا زنا (بد نظری سے) دیکھنا ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1588
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 5889، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 2657، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 2152»
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، وَفِيهِ : " وَمَنْ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ نَظْرَةً حَرَامًا مَلَأَ اللهُ عَيْنَيْهِ نَارًا ، ثُمَ أَمَرَ بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَإِنْ غَضَّ بَصَرَهُ عَنْهَا أَدْخَلَ اللهُ قَلْبَهُ مَحَبَّتَهُ وَرَحْمَتَهُ ، وَأَمَرَ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ .
وَمَنْ صَافَحَ امْرَأَةً حَرَامًا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَإِنْ فَاكَهَهَا حُبِسَ بِكُلِّ كَلِمَةٍ فِي الدُّنْيَا أَلْفَ عَامٍ " .
وَفِي الْحَدِيثِ : " وَاشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى امْرَأَةٍ ذَاتِ بَعْلٍ مَلَأَتْ عَيْنَيْهَا مِنْ غَيْرِ زَوْجِهَا ، أَوْ غَيْرِ ذِي رَحِمٍ مِنْهَا ، فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ أَحْبَطَ اللهُ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلَتْهُ ، فَإِنْ أَوْطَأَتْ فِرَاشَهُ غَيْرَهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ تَعَالَى أَنْ يُجَرِّعَهَا النَّارَ مِنْ يَوْمِ تَمُوتُ فِي قَبْرِهَا ".
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ (الفاظ) بھی ہیں کہ: ”جس شخص نے کسی عورت پر حرام نظر ڈالی، اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کو آگ سے بھر دے گا، پھر اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، لیکن اگر اس نے (فتنے کے خوف سے) اپنی نظریں نیچی کر لیں تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اپنی محبت اور رحمت ڈال دے گا اور اس کے بارے میں جنت کا حکم فرمائے گا، اور جس نے کسی غیر محرم عورت سے مصافحہ کیا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے، پھر اسے آگ کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، اور اگر اس نے اس عورت کے ساتھ خوش طبعی (دل لگی) کی تو اسے دنیا میں کہے گئے ہر کلمے کے بدلے ایک ہزار سال تک (جہنم میں) روک لیا جائے گا۔“ اور اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ: ”اور اس شادی شدہ عورت پر اللہ کا غضب شدید ہو گیا جس نے اپنے شوہر یا اپنے ذی رحم محرم کے علاوہ کسی غیر مرد کو (لذت کی خاطر) جی بھر کر دیکھا، پس جب اس نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر اس عمل کو اکارت فرما دے گا جو اس نے کیا ہو گا، پھر اگر اس نے اپنے شوہر کے بستر پر کسی غیر مرد کو قابو دیا (یعنی بدکاری کی) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ اس کی موت کے دن سے اس کی قبر میں اسے آگ کے گھونٹ پلائے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1589
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :—. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الْإِثْمُ حَوَازُ الْقُلُوبِ ، وَمَا كَانَ مِنْ نَظْرَةٍ فَإِنَّ لِلشَّيْطَانِ فِيهَا مَطْمَعًا ".
ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”گناہ وہ ہے جو دلوں میں کھٹک اور بے چینی پیدا کرے، اور (غیر محرم پر پڑنے والی) ہر نظر میں شیطان کے لیے (انسان کو فتنے میں مبتلا کرنے کا) ایک خاص لالچ اور طمع موجود ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1590
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8748»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ ، ثَنَا أَبُو حَبِيبٍ الْغَنَوِيُّ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تَرَى أَعْيُنُهُمُ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ تَعَالَى ، وَعَيْنٌ حَرَسَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَعَيْنٌ غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ".
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین طرح کے خوش نصیب ایسے ہیں جن کی آنکھیں قیامت کے دن دوزخ کی آگ نہیں دیکھیں گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے رو پڑی، دوسری وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں پہرہ دیا، اور تیسری وہ آنکھ جس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے اپنی نظریں نیچی رکھیں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1591
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9489، 9490، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 8570، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3094»
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَطِّي عَنَّا قَنَازِعَكِ يَا أُمَّ أَيْمَنَ ".
ترجمہ
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے امِ ایمن! اپنے سر کے بالوں کی لٹوں (یا چٹیا کے لٹکتے ہوئے گچھوں) کو ہم سے پوشیدہ رکھو (یعنی انہیں ڈھانپ لیا کرو)۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1592
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : " كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَعْرَابِيٌّ مَعَهُ ابْنَةٌ لَهُ حَسْنَاءُ ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابِيُّ يَعْرِضُهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ".
ترجمہ
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (سواری پر) سوار تھا، وہاں ایک دیہاتی اپنی خوبصورت بیٹی کے ہمراہ موجود تھا، چنانچہ وہ دیہاتی اپنی بیٹی کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس غرض سے پیش کرنے لگا کہ شاید آپ ﷺ اس سے نکاح فرما لیں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1593
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1602، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1281، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 918، وأخرجه سنن النسائي برقم: 3080، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1815، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3040، وأخرجه مسند أحمد برقم: 1826، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1902، وأخرجه فتح الباري برقم: 1756، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3137»