❮
❯
حدیث نمبر: 1589
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، وَفِيهِ : " وَمَنْ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ نَظْرَةً حَرَامًا مَلَأَ اللهُ عَيْنَيْهِ نَارًا ، ثُمَ أَمَرَ بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَإِنْ غَضَّ بَصَرَهُ عَنْهَا أَدْخَلَ اللهُ قَلْبَهُ مَحَبَّتَهُ وَرَحْمَتَهُ ، وَأَمَرَ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ .
وَمَنْ صَافَحَ امْرَأَةً حَرَامًا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَإِنْ فَاكَهَهَا حُبِسَ بِكُلِّ كَلِمَةٍ فِي الدُّنْيَا أَلْفَ عَامٍ " .
وَفِي الْحَدِيثِ : " وَاشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى امْرَأَةٍ ذَاتِ بَعْلٍ مَلَأَتْ عَيْنَيْهَا مِنْ غَيْرِ زَوْجِهَا ، أَوْ غَيْرِ ذِي رَحِمٍ مِنْهَا ، فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ أَحْبَطَ اللهُ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلَتْهُ ، فَإِنْ أَوْطَأَتْ فِرَاشَهُ غَيْرَهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ تَعَالَى أَنْ يُجَرِّعَهَا النَّارَ مِنْ يَوْمِ تَمُوتُ فِي قَبْرِهَا ".
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ (الفاظ) بھی ہیں کہ: ”جس شخص نے کسی عورت پر حرام نظر ڈالی، اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کو آگ سے بھر دے گا، پھر اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، لیکن اگر اس نے (فتنے کے خوف سے) اپنی نظریں نیچی کر لیں تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اپنی محبت اور رحمت ڈال دے گا اور اس کے بارے میں جنت کا حکم فرمائے گا، اور جس نے کسی غیر محرم عورت سے مصافحہ کیا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے، پھر اسے آگ کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، اور اگر اس نے اس عورت کے ساتھ خوش طبعی (دل لگی) کی تو اسے دنیا میں کہے گئے ہر کلمے کے بدلے ایک ہزار سال تک (جہنم میں) روک لیا جائے گا۔“ اور اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ: ”اور اس شادی شدہ عورت پر اللہ کا غضب شدید ہو گیا جس نے اپنے شوہر یا اپنے ذی رحم محرم کے علاوہ کسی غیر مرد کو (لذت کی خاطر) جی بھر کر دیکھا، پس جب اس نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر اس عمل کو اکارت فرما دے گا جو اس نے کیا ہو گا، پھر اگر اس نے اپنے شوہر کے بستر پر کسی غیر مرد کو قابو دیا (یعنی بدکاری کی) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ اس کی موت کے دن سے اس کی قبر میں اسے آگ کے گھونٹ پلائے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1589
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :—. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»