کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: مسلمان کو کافر کا وارث قرار دینے والوں کے قول کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ كُرْدِيٍّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ : إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُوَرِّثُ الْمُسْلِمَ مِنَ الْكَافِرِ ، وَلَا يُوَرِّثُ الْكَافِرَ مِنَ الْمُسْلِمِ .
ترجمہ
یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ”مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیتے تھے، مگر کافر کو مسلمان کا وارث نہیں ٹھہراتے تھے۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَمْرٍو الْوَاسِطِيِّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ : إِنَّ أَخَوَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ : يَهُودِيٌّ ، وَمُسْلِمٌ . فَوَرَّثَ الْمُسْلِمَ مِنْهُمَا ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ وَرَّثْتَ الْمُسْلِمَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَخَوَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَهُودِيٌّ ، وَمُسْلِمٌ . فَقَالَ الْمُسْلِمُ : كَانَ أَبِي يَهُودِيًّا ، وَكَانَ ذَا مَالٍ وَأَرْضٍ ، فَلَمْ يَضُرَّنِي إِسْلَامِي عِنْدَهُ دُونَ أَنْ فَوَّضَ إِلَيَّ مَالَهُ وَأَرْضًا كُنْتُ أَزْرَعُهَا وَأَقُومُ فِيهَا ، وَكُنْتُ أَتَصَدَّقُ ، وَأَقْرِي الضَّيْفَ ، وَأَصْنَعُ الْمَعْرُوفَ ، وَأُعْتِقُ ، فَكَانَ لَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَمَاتَ . فَحَالُوا بَيْنِي وَبَيْنَ مَالِهِ ، وَقَالُوا : لَا حَقَّ لَكَ . فَوَرَّثَ مُعَاذٌ الْمُسْلِمَ .
ترجمہ
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو بھائیوں، ایک یہودی اور ایک مسلمان، کا مقدمہ پیش ہوا تو مسلمان بھائی نے عرض کی: ”میرا باپ یہودی تھا اور وہ مال و زمین کا مالک تھا، میرے اسلام لانے سے اس کے نزدیک میرا کوئی نقصان نہیں ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنا سارا مال اور وہ زمین جس میں میں کھیتی باڑی اور انتظام وانصرام کرتا تھا، میرے ہی سپرد کر دی تھی۔ میں اس میں سے صدقہ کرتا، مہمان نوازی کرتا، نیک اعمال بجا لاتا اور غلام آزاد کرتا تھا اور وہ مجھ پر ان باتوں کی وجہ سے کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا، پھر اس کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے میرے اور اس کے مال کے درمیان رکاوٹ ڈال دی اور کہنے لگے کہ تمہارا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔“ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس مسلمان بھائی کو وارث قرار دے دیا؛ اسی طرح جب یحییٰ بن یعمر کے پاس ایک یہودی اور مسلمان بھائی کا وراثت کا تنازع لایا گیا تو انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے اسی فیصلے کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے مسلمان بھائی کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ ، إِلَّا إِنْ كَانَ لَهُ عَبْدًا " ، وَفِي لَفْظٍ : " إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لَهُ ".
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا: ”کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بن سکتا، سوائے اس صورت کے کہ وہ (کافر) اس کا غلام ہو“ اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”مگر یہ کہ وہ اس کا مملوک (غلام) ہو۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ [عَبْدِ الرَّحْمَنِ] بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ فِيهِ : " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ . لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ . وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ".
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستے میں ایک تحریر پائی گئی جس میں مرقوم تھا کہ: ”تمام مسلمانوں کے خون (قصاص و دیت میں) برابر ہیں، ان میں سے ایک ادنیٰ درجے کا مسلمان بھی (کسی کو پناہ دے کر) سب کی طرف سے ذمہ داری اٹھا سکتا ہے، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی معاہد (ذمی) کو اس کی مدتِ معاہدہ کے دوران قتل کیا جائے گا، نیز دو مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔““