المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِنْ رأى توريث المسلم مِنْ الكافر باب: مسلمان کو کافر کا وارث قرار دینے والوں کے قول کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَمْرٍو الْوَاسِطِيِّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ : إِنَّ أَخَوَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ : يَهُودِيٌّ ، وَمُسْلِمٌ . فَوَرَّثَ الْمُسْلِمَ مِنْهُمَا ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ وَرَّثْتَ الْمُسْلِمَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَخَوَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَهُودِيٌّ ، وَمُسْلِمٌ . فَقَالَ الْمُسْلِمُ : كَانَ أَبِي يَهُودِيًّا ، وَكَانَ ذَا مَالٍ وَأَرْضٍ ، فَلَمْ يَضُرَّنِي إِسْلَامِي عِنْدَهُ دُونَ أَنْ فَوَّضَ إِلَيَّ مَالَهُ وَأَرْضًا كُنْتُ أَزْرَعُهَا وَأَقُومُ فِيهَا ، وَكُنْتُ أَتَصَدَّقُ ، وَأَقْرِي الضَّيْفَ ، وَأَصْنَعُ الْمَعْرُوفَ ، وَأُعْتِقُ ، فَكَانَ لَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَمَاتَ . فَحَالُوا بَيْنِي وَبَيْنَ مَالِهِ ، وَقَالُوا : لَا حَقَّ لَكَ . فَوَرَّثَ مُعَاذٌ الْمُسْلِمَ .سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو بھائیوں، ایک یہودی اور ایک مسلمان، کا مقدمہ پیش ہوا تو مسلمان بھائی نے عرض کی: ”میرا باپ یہودی تھا اور وہ مال و زمین کا مالک تھا، میرے اسلام لانے سے اس کے نزدیک میرا کوئی نقصان نہیں ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنا سارا مال اور وہ زمین جس میں میں کھیتی باڑی اور انتظام وانصرام کرتا تھا، میرے ہی سپرد کر دی تھی۔ میں اس میں سے صدقہ کرتا، مہمان نوازی کرتا، نیک اعمال بجا لاتا اور غلام آزاد کرتا تھا اور وہ مجھ پر ان باتوں کی وجہ سے کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا، پھر اس کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے میرے اور اس کے مال کے درمیان رکاوٹ ڈال دی اور کہنے لگے کہ تمہارا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔“ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس مسلمان بھائی کو وارث قرار دے دیا؛ اسی طرح جب یحییٰ بن یعمر کے پاس ایک یہودی اور مسلمان بھائی کا وراثت کا تنازع لایا گیا تو انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے اسی فیصلے کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے مسلمان بھائی کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔