المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِنْ رأى توريث المسلم مِنْ الكافر باب: مسلمان کو کافر کا وارث قرار دینے والوں کے قول کا بیان۔
حدیث نمبر: 1548
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ [عَبْدِ الرَّحْمَنِ] بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ فِيهِ : " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ . لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ . وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ".ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستے میں ایک تحریر پائی گئی جس میں مرقوم تھا کہ: ”تمام مسلمانوں کے خون (قصاص و دیت میں) برابر ہیں، ان میں سے ایک ادنیٰ درجے کا مسلمان بھی (کسی کو پناہ دے کر) سب کی طرف سے ذمہ داری اٹھا سکتا ہے، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی معاہد (ذمی) کو اس کی مدتِ معاہدہ کے دوران قتل کیا جائے گا، نیز دو مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔““