❮
❯
حدیث نمبر: 1548
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ [عَبْدِ الرَّحْمَنِ] بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ فِيهِ : " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ . لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ . وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ".
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستے میں ایک تحریر پائی گئی جس میں مرقوم تھا کہ: ”تمام مسلمانوں کے خون (قصاص و دیت میں) برابر ہیں، ان میں سے ایک ادنیٰ درجے کا مسلمان بھی (کسی کو پناہ دے کر) سب کی طرف سے ذمہ داری اٹھا سکتا ہے، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی معاہد (ذمی) کو اس کی مدتِ معاہدہ کے دوران قتل کیا جائے گا، نیز دو مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔““

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوصايا / حدیث: 1548
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10747، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3035/3، 4899، 4989»