کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: امانت (ودیعت) کو واپس لوٹانے کے حکم کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدِيعَةٌ فَلْيَرُدَّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا .
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کسی کے پاس کوئی امانت (ودیعت) ہو، تو وہ اسے اس شخص کے سپرد کر دے جس نے اسے اس پر امین بنایا تھا“۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ... فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، فِيهِ : وَمَنْ خَانَ أَمَانَتَهُ فِي الدُّنْيَا ، وَلَمْ يَرُدَّهَا إِلَى أَرْبَابِهَا ، مَاتَ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ ، وَلَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَيَهْوَى مِنْ شَفِيرِهَا أَبَدَ الْآبِدِينَ .
هَذَا مَوْضُوعٌ .
هَذَا مَوْضُوعٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا... پھر راوی نے ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ (ارشاد بھی) ہے: ”اور جس شخص نے دنیا میں اپنی (سپرد کردہ) امانت میں خیانت کی اور اسے اس کے اصل مالکان کو واپس نہ لوٹایا، تو وہ اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر مرے گا، اور اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہوگا، پھر اس کے متعلق جہنم کا حکم صادر کیا جائے گا، چنانچہ وہ اس کے کنارے سے ابد الآباد تک (نیچے گہرائی میں) گرتا رہے گا۔“ یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أُتِيَ فِي وَدِيعَةٍ ضَاعَتْ ، فَلَمْ يَضْمَنْهَا .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک امانت کا معاملہ لایا گیا جو ضائع ہو گئی تھی، تو انہوں نے اس کا ضمان لازم نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، ثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كَانَ لَا يَضْمَنُ الْوَدِيعَةَ .
ترجمہ
عبد اللہ بن عکیم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ امانت کے ضائع ہو جانے پر امین کو ضامن نہیں ٹھہراتے تھے۔