المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ برد الوديعة باب: امانت (ودیعت) کو واپس لوٹانے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1467
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ... فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، فِيهِ : وَمَنْ خَانَ أَمَانَتَهُ فِي الدُّنْيَا ، وَلَمْ يَرُدَّهَا إِلَى أَرْبَابِهَا ، مَاتَ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ ، وَلَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَيَهْوَى مِنْ شَفِيرِهَا أَبَدَ الْآبِدِينَ .
هَذَا مَوْضُوعٌ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا... پھر راوی نے ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ (ارشاد بھی) ہے: ”اور جس شخص نے دنیا میں اپنی (سپرد کردہ) امانت میں خیانت کی اور اسے اس کے اصل مالکان کو واپس نہ لوٹایا، تو وہ اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر مرے گا، اور اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہوگا، پھر اس کے متعلق جہنم کا حکم صادر کیا جائے گا، چنانچہ وہ اس کے کنارے سے ابد الآباد تک (نیچے گہرائی میں) گرتا رہے گا۔“ یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔