المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الحوالة باب: حوالہ یعنی ایک شخص کے ذمہ موجود قرض کو دوسرے شخص کے ذمہ منتقل کرنے کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1465
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَمَنْ أُحِيلَ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَحْتَلْ .
إِسْمَاعِيلُ ضَعِيفٌ . قَالَ الْبَزَّارُ : لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ .ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”صاحبِ ثروت (قرض دار) کا (ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جس شخص کے (قرض کی وصولی کو) کسی مالدار کی طرف منتقل کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ (اس حوالے کو) قبول کر لے۔“ اسماعیل (بن مسلم) ضعیف راوی ہے؛ اور امام بزار نے فرمایا کہ اس روایت کے نقل کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی گئی (یعنی وہ اس کے نقل کرنے میں منفرد ہیں)۔