کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: خرید و فروخت میں عائد کی جانے والی شرائط اور دراہم کی نقد ادائیگی کا بیان۔
❮
❯
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْجَارِيَةَ عَلَى أَنْ لَا تَبِيعَ وَلَا تَهَبَ ؟ قَالَتْ : كَرِهْتُ ذَلِكَ وَكَرِهْتُ الشَّرْطَ .
ترجمہ
سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف ایک شخص بھیجا تاکہ وہ ان سے غیر عرب (عجم) کی زمین کی خرید و فروخت اور اسے کرائے پر دینے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد گرامی متعلق دریافت کرے، تو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے عجم کی زمین کی خرید و فروخت اور اسے کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے“
(مؤلف/محدث فرماتے ہیں:) یہ سند ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1394
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 22170»
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَتْ : أَخْدَمَنِي عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - خَادِمًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : تَبِيعِينَهَا ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا كُنْتُ لِأَبِيعَكَ خَادِمًا أَخْدَمَنِيهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ . فَلَمْ يَزَلْ بِهَا حَتَّى اشْتَرَاهَا مِنْهَا ، وَشَرَطَ لَهَا خِدْمَتَهَا حَتَّى تَشْتَرِيَ خَادِمًا . فَسَعَى سَاعٍ فَأَخْبَرَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِذَلِكَ فَرَاحَ إِلَيْهِ أَوْ غَدَا ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : بَلَغَنِي أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ جَارِيَةَ زَيْنَبَ ! قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : فَلَا تَقْرَبَنَّهَا وَلِأَحَدٍ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ .
[2] رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي الضِّرَارِ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَعْطَى امْرَأَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی زوجہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک خادمہ بطورِ خدمت گار عطا فرمائی، تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا: ”کیا تم اسے فروخت کرو گی؟“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے جواب دیا: ”میں وہ خادمہ آپ کے ہاتھ ہرگز فروخت نہیں کروں گی جو مجھے امیر المؤمنین نے خدمت کے لیے عطا فرمائی ہے۔“ پس وہ مسلسل ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے وہ خادمہ ان سے خرید لی، اور ان کے لیے یہ شرط مقرر کی کہ جب تک وہ کوئی دوسری خادمہ نہ خرید لیں، یہ پہلی خادمہ ان کی خدمت کرتی رہے گی۔ پھر کسی دوڑ دھوپ کرنے والے مخبر نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبر دے دی، چنانچہ وہ شام یا صبح کے وقت ان کے پاس تشریف لائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم نے زینب کی لونڈی خرید لی ہے!“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ہرگز اس کے قریب نہ جانا جبکہ اس میں کسی دوسرے کا حقِ خدمت باقی ہو۔“ اسے امام بیہقی نے عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عتبہ کے واسطے سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن حارث بن ابی ضرار سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی زوجہ کو مالِ خمس میں سے ایک لونڈی عطا کی تھی... پھر راوی نے اسی کے مانند روایت ذکر کی۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1395
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :في إسناده محمد بن عمرو بن الحارث ذكره ابن أبي حاتم والبخاري وابن حبان ولم يذكروا فيه جرحا ولا تعديلا. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 10944، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 5661»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : اشْتَرَى حُذَيْفَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - نَاقَةً مِنْ رَجُلَيْنِ مِنَ النَّخَعِ ، وَشَرَطَ لَهُمَا رِضَاهُمَا مِنَ النَّقْدِ ، فَجَاءَ بِهِمَا إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَأَخْرَجَ لَهُمَا كِيسًا ، فَاقْتَتَلَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَخْرَجَ لَهُمَا كِيسًا ، فَاقْتَتَلَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكُمَا ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
1396 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : اشْتَرَى حُذَيْفَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مِنْ رَجُلٍ نَاقَةً بِأَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ، وَشَرَطَ لَهُ رِضَاهُ مِنَ النَّقْدِ . فَأَتَاهُ بِرَجُلٍ مِنْ أَصْبَهَانَ ، كَانَ أَبْصَرَ بِالْوَزْنِ مِنْهُ ، فَأَخْرَجَ لَهُ حُذَيْفَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كِيسًا فَقَبِلَ عَامَّتَهُ ، ثُمَّ أَخْرَجَ لَهُ كِيسًا آخَرَ فَقَبِلَ عَامَّتَهُ ، ثُمَّ أَخْرَجَ لَهُ كِيسًا ثَالِثًا فَقَبِلَ عَامَّتَهُ ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكُمَا ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
.
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نخع کے دو آدمیوں سے ایک اونٹنی خریدی اور نقدی کے بارے میں ان دونوں کی رضا مندی کی شرط لگائی، پھر انہیں اپنے گھر لے آئے اور نقدی کی ایک تھیلی نکالی تو دونوں اس پر جھگڑ پڑے، پھر دوسری تھیلی نکالی تو پھر جھگڑ پڑے۔ اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكُمَا» ”میں تم دونوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں...“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے چار سو درہم کے بدلے ایک اونٹنی خریدی اور نقدی پر اس کی رضا مندی کی شرط لگائی۔ وہ شخص اپنے ساتھ اصفہان کا ایک آدمی لے آیا جو وزن کی زیادہ پہچان رکھتا تھا، پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے ایک تھیلی نکالی تو اس نے اس کا اکثر حصہ قبول کر لیا، پھر دوسری اور تیسری تھیلی بھی اسی طرح قبول کی۔ تب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكُمَا» ”میں تم دونوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں...“ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1396
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا حديث ضعيف؛ مداره على حجاج بن أرطاة، وهو صدوق كثير الخطأ والتدليس عن الضعفاء ، وقد عنعن. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 23920، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1396 / 2»