کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: حرام طریقے سے مال کمانے سے ڈرانے اور حلال رزق حاصل کرنے کی ترغیب دینے کا بیان۔
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا الْمَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ... فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، قَالَ فِيهِ : مَنْ يَكْسِبْ مَالًا حَرَامًا لَمْ يَقْبَلِ اللهُ لَهُ صَدَقَةً ، وَلَا عِتْقًا ، وَلَا حَجًّا ، وَلَا عُمْرَةً ، وَكَتَبَ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِقَدْرِ ذَلِكَ أَوْزَارًا ، وَمَا بَقِيَ عِنْدَ مَوْتِهِ كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ . وَمَنِ اشْتَرَى خِيَانَةً ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا خِيَانَةٌ ، كَانَ كَمَنْ خَانَهَا فِي عَارِهَا وَإِثْمِهَا . وَمَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ ، كَانَ كَمَنْ سَرَقَهَا فِي عَارِهَا وَإِثْمِهَا ... الْحَدِيثَ .
وَهُوَ مَوْضُوعٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَدْ رُوِيَ آخِرُهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ .
وَهُوَ مَوْضُوعٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَدْ رُوِيَ آخِرُهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ ارشاد بھی ہے: ”جو شخص حرام مال کمائے، اللہ تعالیٰ اس کا نہ صدقہ قبول فرماتا ہے، نہ غلام آزاد کرنا، نہ حج اور نہ عمرہ؛ اللہ عزوجل اس کے بقدر اس پر گناہ لکھ دیتا ہے، اور موت کے وقت جو کچھ اس مال میں سے باقی رہ جائے وہ جہنم کی طرف اس کا زادِ راہ بنے گا۔ اور جس نے خیانت کا مال خریدا جبکہ اسے معلوم تھا کہ یہ خیانت کا مال ہے، وہ اس کی رسوائی اور گناہ میں خیانت کرنے والے ہی کی طرح ہے؛ اور جس نے چوری کا مال خریدا جبکہ اسے معلوم تھا کہ یہ چوری کا مال ہے، وہ اس کی عار اور گناہ میں چوری کرنے والے ہی کی طرح ہے۔“ وضاحت: یہ روایت اس سند کے ساتھ موضوع ہے، البتہ اس کا آخری حصہ دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ( ح ) .
1346 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ ابْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَفِي رِوَايَةٍ قَبِيصَةُ بْنُ مِينَا عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَفِي رِوَايَةٍ وَكِيعٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ ، فَقَدْ شَرَكَ فِي إِثْمِهَا وَعَارِهَا .
1346 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ ابْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَفِي رِوَايَةٍ قَبِيصَةُ بْنُ مِينَا عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَفِي رِوَايَةٍ وَكِيعٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ ، فَقَدْ شَرَكَ فِي إِثْمِهَا وَعَارِهَا .
ترجمہ
محمد بن ابی عمر اور احمد بن منیع نے وکیع اور قبیصہ سے، ان دونوں نے سفیان سے، انہوں نے مصعب بن محمد سے، اور قبیصہ کی ایک روایت میں ابن مینا سے انہوں نے ایک انصاری بزرگ سے، جبکہ وکیع کی ایک روایت میں اہل مدینہ کے ایک شخص سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کوئی چوری شدہ چیز خریدی درآنحالیکہ وہ جانتا تھا کہ وہ چوری کی ہے، تو وہ اس کے گناہ اور اس کی عار و رسوائی میں شریک ہو گیا۔“
أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا حَسَنٌ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَيُّمَا رَجُلٍ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَلَالٍ ، فَأَطْعَمَ نَفْسَهُ ، أَوْ كَسَاهَا مَنْ دُونَهُ مِنْ خَلْقِ اللهِ تَعَالَى ، فَإِنَّ لَهُ بِهَا زَكَاةً .
1347 \ 2 - تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ . أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ مِنْ طَرِيقِهِ .
1347 \ 2 - تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ . أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ مِنْ طَرِيقِهِ .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے اپنی سند سے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی شخص نے حلال طریقے سے مال کمایا، پھر اس سے اپنی ذات کی خوراک کا انتظام کیا، یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اپنے علاوہ کسی دوسرے کو لباس پہنایا، تو یقیناً یہ عمل اس کے لیے زکوٰۃ (یعنی باعثِ اجر و پاکیزگی) ہے۔“ اسی روایت کی متابعت عمرو بن حارث نے دراج سے روایت کرتے ہوئے کی ہے، اور امام ابنِ حبان نے اسے انہی کی سند سے نقل کیا ہے۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْجَارُودِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا يُعْجِبَنَّكَ رَحْبُ الذِّرَاعَيْنِ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ ، فَإِنَّ لَهُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى قَاتِلًا لَا يَمُوتُ ، وَلَا يُعْجِبَنَّكَ امْرُؤٌ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ ، فَإِنَّهُ إِنْ أَنْفَقَهُ أَوْ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ ، وَإِنْ تَرَكَهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ .
ترجمہ
امام طیالسی نے اپنی سند سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں وہ شخص ہرگز متاثر نہ کرے جو کشادہ بازو والا (یعنی قوی و نڈر) ہو کر ناحق خون بہاتا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے ایک ایسا مارنے والا (عذاب) ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور تمہیں وہ شخص بھی ہرگز اچھا نہ لگے جس نے حرام طریقے سے مال کمایا ہو، کیونکہ اگر وہ اسے خرچ کرے یا اس کا صدقہ دے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور اگر اسے (ورثہ میں) چھوڑ جائے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جائے گی، اور اگر اس میں سے کچھ مال بچ رہے تو وہ جہنم کی طرف اس کا زادِ راہ ہو گا۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا الْخَلِيلُ ، ثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مال و متاع اور دنیوی ساز و سامان کی کثرت کا نام غنا (حقیقی مالداری) نہیں ہے، بلکہ اصل غنا تو نفس کی بے نیازی اور دل کا غنی ہونا ہے۔“