المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي اجتناب الشبهات باب: مشتبہ امور سے اجتناب کی ترغیب کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ : إِلَيْكَ يَا وَاثِلَةُ - أَيْ تَنَحَّ عَنْ وَجْهِهِ - فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : دَعُوهُ ، فَإِنَّمَا جَاءَ لِيَسْأَلَ ، فَدَنَوْتُ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ، لِتُفْتِنَا عَنْ أَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ . قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اسْتَفْتِ نَفْسَكَ ، قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ ، قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِعِلْمِ ذَلِكَ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ضَعْ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ ، فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ إِلَى الْحَلَالِ ، وَلَا يَسْكُنُ إِلَى الْحَرَامِ ، وَإِنَّ وَرَعَ الْمُسْلِمِ أَنْ يَدَعَ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ ، قُلْتُ : فَمَنِ الْحَرِيصُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الَّذِي يَطْلُبُ الْكَسْبَةَ فِي غَيْرِ حِلِّهَا ، قُلْتُ : فَمَنِ الْوَرِعُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ ، قُلْتُ : فَمَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَدِمَائِهِمْ ، قُلْتُ : فَمَنِ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، قُلْتُ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ .
الْعَلَاءُ بْنُ ثَعْلَبَةَ مَجْهُولٌ ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، لَكِنْ لِلْمَتْنِ شَوَاهِدُ مُفَرَّقَةٌ .سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجدِ خیف میں دیکھا، تو آپ ﷺ کے صحابہ نے مجھ سے کہا: اے واثلہ! پیچھے ہٹ جاؤ، یعنی آپ ﷺ کے سامنے سے ہٹ جاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ تو سوال کرنے آیا ہے۔“ میں قریب ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ہمیں ایسا معاملہ بتا دیجیے جسے ہم آپ کے بعد آپ سے لے کر اختیار کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے نفس سے فتویٰ طلب کرو۔“ میں نے عرض کیا: یہ کیسے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، اگرچہ مفتیان تمہیں فتویٰ دے دیں۔“ میں نے عرض کیا: اس کی پہچان کیسے ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھو؛ دل حلال سے مطمئن ہوتا ہے اور حرام پر مطمئن نہیں ہوتا۔ مسلمان کا ورع یہ ہے کہ وہ بڑے گناہ میں پڑنے کے خوف سے چھوٹی مشتبہ چیز بھی چھوڑ دے۔“ پھر سوال و جواب کے آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔“ وضاحت: علاء بن ثعلبہ مجہول ہیں، تاہم متن کے مختلف اجزاء کے جدا جدا شواہد موجود ہیں۔