المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ كسب الحرام وَالتَّرْغِيبِ فِي كسب الحلال باب: حرام طریقے سے مال کمانے سے ڈرانے اور حلال رزق حاصل کرنے کی ترغیب دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1346
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ( ح ) .
1346 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ ابْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَفِي رِوَايَةٍ قَبِيصَةُ بْنُ مِينَا عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَفِي رِوَايَةٍ وَكِيعٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ ، فَقَدْ شَرَكَ فِي إِثْمِهَا وَعَارِهَا .ترجمہ
محمد بن ابی عمر اور احمد بن منیع نے وکیع اور قبیصہ سے، ان دونوں نے سفیان سے، انہوں نے مصعب بن محمد سے، اور قبیصہ کی ایک روایت میں ابن مینا سے انہوں نے ایک انصاری بزرگ سے، جبکہ وکیع کی ایک روایت میں اہل مدینہ کے ایک شخص سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کوئی چوری شدہ چیز خریدی درآنحالیکہ وہ جانتا تھا کہ وہ چوری کی ہے، تو وہ اس کے گناہ اور اس کی عار و رسوائی میں شریک ہو گیا۔“