المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ كسب الحرام وَالتَّرْغِيبِ فِي كسب الحلال باب: حرام طریقے سے مال کمانے سے ڈرانے اور حلال رزق حاصل کرنے کی ترغیب دینے کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْجَارُودِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا يُعْجِبَنَّكَ رَحْبُ الذِّرَاعَيْنِ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ ، فَإِنَّ لَهُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى قَاتِلًا لَا يَمُوتُ ، وَلَا يُعْجِبَنَّكَ امْرُؤٌ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ ، فَإِنَّهُ إِنْ أَنْفَقَهُ أَوْ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ ، وَإِنْ تَرَكَهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ .امام طیالسی نے اپنی سند سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں وہ شخص ہرگز متاثر نہ کرے جو کشادہ بازو والا (یعنی قوی و نڈر) ہو کر ناحق خون بہاتا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے ایک ایسا مارنے والا (عذاب) ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور تمہیں وہ شخص بھی ہرگز اچھا نہ لگے جس نے حرام طریقے سے مال کمایا ہو، کیونکہ اگر وہ اسے خرچ کرے یا اس کا صدقہ دے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور اگر اسے (ورثہ میں) چھوڑ جائے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جائے گی، اور اگر اس میں سے کچھ مال بچ رہے تو وہ جہنم کی طرف اس کا زادِ راہ ہو گا۔“