کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: اونٹ چلانے والے کے حج کے صحیح ہونے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أُؤَاجِرُ نَفْسِي مِنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ ، فَأَنْسُكُ مَعَهُمْ أَلِي أَجْرٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ : أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا . الْآيَةَ .
ترجمہ
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ”میں ان لوگوں کی مزدوری (خدمت) کرتا ہوں اور ان کے ہمراہ مناسکِ حج بھی ادا کرتا ہوں، تو کیا مجھے اس کا ثواب ملے گا؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جی ہاں، (کیونکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:) ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا﴾ یعنی: انھی لوگوں کے لیے ان کے اعمال کی کمائی کا حصہ (ثابت) ہے (سورت البقرہ: 202)۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1149
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 3053، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 1776، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8747، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 15372»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَبِيبٍ ، ثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّ لِي رَوَاحِلَ أُكْرِيهِمْ فِي الْحَجِّ ، وَأَسْعَى عَلَى عِيَالِي ، فَزَعَمَ نَاسٌ أَنَّهُ لَا حَجَّ لِي ; لِأَنَّهَا تُكْرَى . فَقَالَ : كَذَبُوا ، لَكَ أَجْرٌ فِي حَجِّكَ ، وَأَجْرٌ فِي سَعْيِكَ عَلَى عِيَالِكَ ، فَلَكَ أَجْرَانِ .
أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوسلیل نے ان سے عرض کیا: میرے پاس کچھ سواریاں ہیں جنہیں میں حج کے موقع پر کرایے پر دیتا ہوں اور اس طرح اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے تگ و دو کرتا ہوں، مگر بعض لوگوں کا گمان ہے کہ میرا حج (مقبول) نہیں ہوگا کیونکہ میں ان سواریوں کو کرایے پر چلاتا ہوں؛ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں نے غلط کہا ہے، تمہیں تمہارے حج کا بھی ثواب ملے گا اور اپنے اہل و عیال کے لیے محنت و مشقت کرنے کا بھی اجر ملے گا، یوں تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے ایک دوسرے طریق سے ان الفاظ کے علاوہ دیگر الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1150
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :سنده ضعيف. »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 3051، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 1653، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1733، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 352، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8749، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 2751، وأخرجه مسند أحمد برقم: 6545، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 2021، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 13534»