المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الْجَمَّالِ باب: اونٹ چلانے والے کے حج کے صحیح ہونے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَبِيبٍ ، ثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّ لِي رَوَاحِلَ أُكْرِيهِمْ فِي الْحَجِّ ، وَأَسْعَى عَلَى عِيَالِي ، فَزَعَمَ نَاسٌ أَنَّهُ لَا حَجَّ لِي ; لِأَنَّهَا تُكْرَى . فَقَالَ : كَذَبُوا ، لَكَ أَجْرٌ فِي حَجِّكَ ، وَأَجْرٌ فِي سَعْيِكَ عَلَى عِيَالِكَ ، فَلَكَ أَجْرَانِ .
أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوسلیل نے ان سے عرض کیا: میرے پاس کچھ سواریاں ہیں جنہیں میں حج کے موقع پر کرایے پر دیتا ہوں اور اس طرح اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے تگ و دو کرتا ہوں، مگر بعض لوگوں کا گمان ہے کہ میرا حج (مقبول) نہیں ہوگا کیونکہ میں ان سواریوں کو کرایے پر چلاتا ہوں؛ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں نے غلط کہا ہے، تمہیں تمہارے حج کا بھی ثواب ملے گا اور اپنے اہل و عیال کے لیے محنت و مشقت کرنے کا بھی اجر ملے گا، یوں تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے ایک دوسرے طریق سے ان الفاظ کے علاوہ دیگر الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔