المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الْجَمَّالِ باب: اونٹ چلانے والے کے حج کے صحیح ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1149
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أُؤَاجِرُ نَفْسِي مِنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ ، فَأَنْسُكُ مَعَهُمْ أَلِي أَجْرٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ : أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا . الْآيَةَ .ترجمہ
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ”میں ان لوگوں کی مزدوری (خدمت) کرتا ہوں اور ان کے ہمراہ مناسکِ حج بھی ادا کرتا ہوں، تو کیا مجھے اس کا ثواب ملے گا؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جی ہاں، (کیونکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:) ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا﴾ یعنی: انھی لوگوں کے لیے ان کے اعمال کی کمائی کا حصہ (ثابت) ہے (سورت البقرہ: 202)۔“